بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
سیدہ لڑکی کا غیر سید لڑکے سے نکاح کرنا
سوال
کیا سیدہ لڑکی کا نکاح غیرسید لڑکے سے کر سکتے ہیں؟ کیا اس میں شرعًا کوئی قباحت ہے؟ جبکہ والدین اس نکاح پر راضی ہوں؟
جواب
واضح رہے کہ دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے، خواہ کفو میں ہو یا غیر کفو میں، البتہ نکاح کے معاملہ میں زوجین کے درمیان مخصوص امور میں کفائت و مساوات کا لحاظ رکھنے کی شریعت نے تعلیم دی ہے، تاکہ میاں بیوی کے درمیان توازن ہو اور ان کے تعلقات مستحکم اور پائیدار ہوں پھر جن امور میں کفائت کا اعتبار کیا جاتا ہے، ان میں سے نسب بھی ہے چنانچہ نسب کے اعتبار سے غیر سید لڑکا سید لڑکی کا کفو نہیں تاہم چونکہ حق کفائت عورت اور اس کے اولیا کا حق ہے، لہٰذا اگر اولیا کسی مصلحت کی خاطرغیر کفو میں نکاح کرنے پر راضی ہوں تو غیرکفو میں بھی نکاح جائز ہے۔
لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق سیدہ لڑکی کا اپنی مرضی سے غیر سید لڑکے سے نکاح جائز ہے، بالخصوص جب کہ والدین بھی راضی ہوں۔
(قوله: بعضهم أكفاء بعض) أشار به إلى أنه لا تفاضل فيما بينهم من الهاشمي والنوفلي والتيمي والعدوي وغيرهم، ولهذا زوج علي وهو هاشمي أم كلثوم بنت فاطمة لعمر وهو عدوي قهستاني فلو تزوجت هاشمية قرشيا غير هاشمي لم يرد عقدها وإن تزوجت عربيا غير قرشي لهم رده كتزويج العربية أعجميا بحر وقوله لم يرد عقدها ذكر مثله في التبيين، وكثير من شروح الكنز والهداية، وغالب المعتبرات فقوله في الفيض القرشي لا يكون كفؤا للهاشمي كلمة لا فيه من تحريف النساخ، رملي.
(قوله: وبقية العرب أكفاء) العرب صنفان: عرب عاربة: وهم أولاد قحطان ومستعربة: وهم أولاد إسماعيل والعجم أولاد فروخ أخي إسماعيل، وهم الموالي والعتقاء والمراد بهم غير العرب وإن لم يمسهم رق سموا بذلك إما لأن العرب لما افتتحت بلادهم وتركتهم أحرارا بعد أن كان لهؤلاء الاسترقاق، فكأنهم أعتقوهم، أو لأنهم نصروا العرب على قتل الكفار والناصر يسمى مولى، نهر." (رد المحتار علی الدر المختار، ج:3، ص: 86)