بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد اذان سے پہلے نماز پڑھنا


سوال

جب نماز کاوقت ہوجائے تو نماز پڑھ لیں یا اذان کا انتظار کرنا چاہیے جیسے آج کل عشاء کاوقت  08:42 پر ہوجاتا ہے اور اذان ہمارے شہر میں دس منٹ بعد ہوتی ہے تو اذان کا انتظار کریں یا وقت ہوتے ہی نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اور جو نمازیں نماز کا وقت ہوتے ہی پڑھ لیں اذان کا انتظار نہیں کیا تو وہ قبول ہوں  گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز کی ادائیگی کے شرائط میں سے ایک شرط وقت کا داخل ہونا بھی ہے۔ چنانچہ اگر نماز کو وقت کے اندر پڑھا جائے، تو نماز ہو جائے گی۔ جہاں تک اذان کا تعلق ہے تو یہ محض وقت کی پہچان کے لیے ایک اعلان ہے۔ اگر اذان ہونے سے پہلے وقت کے اندر نماز پڑھی جائے تو نماز جائز ہوگی۔

لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر اذان کے انتظار کے بغیر وقت کے اندر نماز پڑھی جائے تو نماز ادا ہو جائے گی۔ البتہ مردوں کے لیے چونکہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے اور واجب کے قریب ہے، اس لیے مرد اگر بلا کسی عذر کے نماز کا وقت ہوتے ہی اذان سے پہلے انفرادی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ادا تو ہوجائے گی لیکن جماعت چھوڑنے کا گناہ ملے گا، اور اگر کوئی شرعی عذر (بیماری، سفر یا شدید بارش وغیرہ) ہو تو پھر گناہ نہیں۔

 

الباب الثالث في شروط الصلاة: الطهارة من الأحداث۔۔۔۔ القبلة والوقت والنية والتحريمة. (الفتاوی الھندیۃ، الباب الثالث في شروط الصلوة، ج:1، ص: 58)

لما كان الوقت سببا كما مر قدمه. وذكر الأذان بعده؛ لأنه إعلام بدخوله۔۔۔ الأصل في مشروعية الأذان الإعلام بدخول الوقت۔ (رد المحتار على الدر المختار، ج:1، ص: 383)

"(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط. (رد المحتار على الدر المختار، ج:1، ص: 552)


فتویٰ نمبر : 10699/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور