بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مالک کا گاڑی اجارہ دینےکے ساتھ گاڑی فروخت کرنےکاکہنا


سوال

سعودی عرب میں عام طور پر یہ طریقہ رائج ہے کہ ایک شخص کسی سے گاڑی کرائے پر لے کر چلاتا ہے، اور ماہانہ طے شدہ رقم (مثلاً ایک ہزار ریال) گاڑی کے مالک کو دیتا ہے، جبکہ اضافی آمدنی خود رکھتا ہے۔اسی طرح ایک شخص کو گاڑی کے مالک نے گاڑی اجارے پر دیتے ہوئے یہ کہا:’’ماہانہ مجھے ایک ہزار ریال دیتے رہو، اس ہزار کےعلاوہ اگر  تھوڑی تھوڑی رقم مجھے دیکر پندرہ ہزار برابر کر دیا تو گاڑی تمہاری ہو جائے گی، چاہے یہ رقم تین مہینے میں ادا کرو یا چار مہینے میں یا زائد عرصے میں، یہ تمہاری مرضی ہے‘‘۔تواس شخص کا اس طرح گاڑی اجارے پر لینا اورماہانہ اجرت کے علاوہ  پندرہ ہزار ریال مکمل کر کے گاڑی خرید لینا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

اگر كوئی  اجارہ کے ساتھ  وعدہ بیع بھی کرے کہ یہ چیزتمہیں اجارہ پر دیتاہوں،بعدمیں اگرتم چاہو تو یہ چیز تمہیں بیچ دونگا۔تو یہ معاملہ شرعاً جائز ہے

صورت  مسئولہ میں یعنی اگر اجارہ پردیتے وقت مالک نے یوں کہا ہو:کہ میں تمہیں گاڑی کرائے پر دے رہا ہوں ، اگراس کے علاوہ تھوڑی تھوڑی رقم مجھے دیکر پندرہ ہزار برابر کردیاتو یہ گاڑی آپ کی ہوجائےگی تو یہ وعدہ بیع  کی صورت میں جائز ہوسکتا ہے۔چنانچہ  جو رقم کرائےسے زائددیتا رہےوہ اس گاڑی کے مالک کے پاس قرض کے طور پرتحت الحساب ہوگااور پیسے پورے ہونےکے بعدباقاعدہ ایجاب وقبول کرے،مالک سے گاڑی خریدکریہ قرض رقم گاڑی کی قیمت شمار کردی جائےگی۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"‌المسلمون ‌عند ‌شروطهم فيما وافق الحق".(السنن الكبرى،كتاب الصداق،باب الشروط في النكاح،ج:7،ص:406،رقم الحديث:14434)

قوله (والبيع به قضاء لا الهبة) أي لو حلف ليقضين دينه اليوم فباع متاعا لصاحب الدين بالدين فقد قضاه دينه وبر، ولو وهب الدائن الدين من المديون فليس بقضاء؛ لأن قضاء الدين طريقه المقاصة، وقد تحققت بمجرد البيع.(البحر الرائق ،كتاب الأيمان،باب اليمين في الضرب والقتل وغير ذلك،ج :4،ص:397)


فتویٰ نمبر : 3916/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور