بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

الفاظِ طلاق میں اختلاف کےبعد شوہر کا’’ خپلہ لور دِ بوزہ زما د دے ختمہ دہ‘‘کہنا


سوال

میاں بیوں کے درمیان جھگڑا ہوا اس دوران شوہرکےکہنے کےمطابق اس نےبیوی سے کہہ دیا’’مجھ پرتیری باتیں حرام ہیں‘‘۔جبکہ بیوی کہتی ہےکہ میرے سننے کے مطابق اس نے کہا کہ’’ تم مجھ پر حرام ہو‘‘۔علاوہ ازیں بعد میں شوہرنے اپنے سسر کو وائس مسیج کیا کہ’’خپلہ لور دِ بوزہ زما د دے ختمہ دہ‘‘(یعنی اپنی بیٹی کو لے جاؤں میرے اور اس کے درمیان معاملہ ختم ہوچکا ہے)شوہر بھی اس وائس مسیج کی تصدیق کررہا ہے۔لہذا مذکورہ بالا بیانات کے تناظر  میں مسئلہ کا حل بیان فرمائیں؟

جواب

میاں بیوی کے درمیان جب طلاق کے الفاظ کے بارے میں اختلاف ہوتوبیوی اگر اپنے دعویٰ پردومعتبر گواہ پیش کرسکےتو اس کا قول معتبر ہوگااور اگر گواہ نہ ہوں  تو شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ماناجائےگا، کیونکہ طلاق کا اختیار اسی کو حاصل ہے اور وہ اپنے الفاظ کوبہتر جانتاہے۔ نیزطلاق کے کنائی الفاظ میں نیت کے ثبوت کے لیے دلالتِ حال معتبر ہوتی ہے، چنانچہ حالتِ غضب میں جب ایسےالفاظ  استعمال کیے جائیں جوعرف عام میں نکاح ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہوں تو ان سے طلاق واقع جاتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں الفاظ کے اختلاف میں بیوی کے پاس اگردو معتبر گواہ ہوں تو اس کا قول معتبر ماناجائے گا اور طلاق بائن واقع ہوگی لیکن اگر اس کے ساتھ گواہ نہ ہوں اور شوہر اس کے دعوی سے انکارپر قسم کھالےتواس سے  بیوی کا دعوی رد ہوجائے گا۔تاہم شوہر کاسسر کووائس میسج میں یہ کہناکہ’’خپلہ لور دِ بوزہ زما د دے ختمہ دہ‘‘(یعنی اپنی بیٹی کو لے جاؤ میرے اور اس کے درمیان معاملہ ختم ہوچکا ہے) ان الفاظ سے حالت غضب میں چونکہ  نکاح ختم کرنا ہی مراد ہوتا ہے اس لیے اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے، اور دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نیا نکاح ضروری ہوگا۔

 

(فإن اختلفا في وجود الشرط) أي ثبوته ليعم العدمي (فالقول له مع اليمين) لإنكاره الطلاق.( ردالمحتار على در المختار،كتاب الطلاق،باب الكنايات، ج:3،ص:356)

فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة  (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما، مجتبى.(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب الكنايات، ج:3،ص:300)


فتویٰ نمبر : 7253/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور