بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
مشترک ترکہ میں سے کچھ حصہ فروخت کرنا
سوال
ورثاء کے درمیان مشترکہ زمین ہے اورتا حال ان ورثاء کے حصوں کا تعین نہیں ہوا۔ کیا شرعاً ایسی زمین کی خرید وفروخت جائزہے؟
جواب
مشترکہ زمین میں کسی شریک کا اپنا معلوم حصہ (آدھا یا چوتھائی مثلاً) اس طورپر بیچنا کہ اس کا تعین نہ ہوا ہوفقہاء کی اصطلاح میں بیع المشاع کہلاتا ہے جوکہ جائز ہے چاہے دوسرے شركا اس پرراضی نہ ہوں البتہ شریک کواگراپنا حصہ معلوم ہی نہ ہوتواس صورت میں مبیع مجہول ہونے کی وجہ سے بیع فاسد ہوگی۔
صورت مسئولہ میں ترکہ کی مشترک زمین میں سے اگر ورثاء کواپنا حصہ معلوم نہ ہوتومجھول حصہ فروخت کرناشرعاً جائز نہیں۔
يصح بيع حصة شائعة معلومة كالنصف والثلث والعشر من عقار مملوك قبل الافراز أما إذا كانت الحصة غير معلومة فالبيع فاسد لجهالة المبيع فلو قال لرجل بعتك نصيبي من هذه الدار بكذا وقبل المشتري ولم يكن عالما بنصيبه لا يجوز هذا البيع وإن علم جاز ( خانية ) ... سواء باع من شر يکه أو من أجنبي ولا يشترط فيه إذن الشريك (هندية). (شرح المجلة لسليم رستم باز، الباب الثاني، الفصل الثاني، رقم المادة:214، ص:103)