بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
امام کے ساتھ سجدہ سہو میں مسبوق کا عمداً سلام پھیرنا
سوال
اگرکوئی شخص مسبوق ہواورامام کے ساتھ سجدہ سہو کے سلام میں عمداً سلام پھیردے تواس سے نمازہو جاتی ہے یا نہیں؟
جواب
مسبوق پرامام کے ساتھ سجدہ سہو کرنا لازمی ہے،البتہ اس کے لیےسجدہ سہو کے سلام میں امام کے ساتھ سلام پھیرنا جائز نہیں، لہذااگر کوئی مسبوق سجدہ سہوکے سلام میں امام کے ساتھ قصداً سلام پھیر دے تو اس سےاس کی نماز فاسد ہوجائےگی اوراس پر نمازکا اعادہ کرنا لازم ہوگا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگرمسبوق شخص نے قصداً سجدہ سہو کے سلام میں امام کے ساتھ سلام پھیر دیا ہو تواس سےاس کی نمازنہیں ہوئی ہے لہذا اس پر نماز کا اعادہ واجب ہے۔
ثم المسبوق إنما يتابع الإمام في السهو دون السلام، بل ينتظر الإمام حتى يسلم فيسجد فيتابعه في سجود السهو لا في سلام۔ وإن سلم فإن كان عامدا تفسد صلاته، وإن كان ساهيا لا تفسد، ولا سهو عليه؛ لأنه مقتد، وسهو المقتدي باطل۔ (بدائع الصنائع، فصل بيان من يجب عليه سجود السهو ومن لا، ج:1، ص:176)