بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
پلازہ، فارم اور دودھ کی آمدنی پر زکوٰۃ
سوال
زید کے پاس دو پلازےاور ایک فارم ہے۔پلازہ سے کرائے کی مد میں آمدنی اور فارم سے بھینسوں اور گائیں کے دودھ سے آمدنی حاصل ہوتی ہے۔گائیں اور بھینسوں کا چارہ ذاتی ہے۔اب زید زکات کس طرح ادا کرے گا۔کیا پلازہ اور فارم و بھینسوں کی قیمت پر یا پلازہ کے کرایہ اور فارم کے دودھ سے حاصل ہونے والی آمدن پر۔اور کیا اخراجات نکالے جائیں گے۔اور اگر فارم سے آمدنی کی بجائے نقصان ہو رہا ہو تو پھر کیا نصاب ہوگا۔اس کے علاؤہ زید پر قرضہ بھی کافی ہے۔
جواب
زکاۃکی فرضیت کا ضابطہ یہ ہے کہ جس مسلمان عاقل بالغ شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی یاساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نقد رقم یا مالِ تجارت موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو ،تو ایسا شخص صاحبِ نصاب شمار ہوتا ہے، اور اس کے نصاب پر سال گزرنے کے بعد اس پر زکاۃ واجب ہوتی ہے۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ گائے،بھینس وغیرہ میں زکاۃواجب ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ سال کے اکثر حصہ میں چراگاہ میں چرتے ہوں ، اگر آدھے سال یا اس سے زیادہ چارہ دیاجاتا ہو تو زکاۃ واجب نہ ہوگی، چنانچہ جن جانوروں کو سال بھر خود چارا کھلایا جاتا ہے،جیساکہ ڈیری فارم والے بھینس ،گائے وغیرہ کو خود چارہ دیتے ہیں، تو ان کی قیمت میں زکاۃواجب نہیں ہوتی۔ البتہ جو دودھ حاصل ہوگا اس کی آمدنی اگر نصاب کو پہنچ جائے تو اس میں زکاۃ واجب ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق پلازہ سے کرایہ کی مد میں آنے والی آمدنی اور دودھ کی رقم اگر نصاب کے بقدر ہو یا اس کے علاوہ زید صاحب نصاب ہو تو اس پر اس رقم میں زکاۃ واجب ہوگی۔ تاہم اگر قرضہ اتنا زیادہ ہو کہ اس کی ادائیگی کے بعد نصاب کے بقد رقم نہ بچتی ہو تو پھر زکاۃواجب نہ ہوگی۔
(وسببه)أي سبب افتراضها(ملك نصاب حولي)نسبة للحول لحولانه عليه(تام)...(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)سواء كان لله كزكاة...(و)فارغ(عن حاجته الأصلية)...(نام ولو تقديرا)بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه.(رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکاۃ،ج: 2 ،ص:126)
(وليس في العوامل والحوامل والعلوفة صدقة)ثم السائمة هي التي تكتفي بالرعي في أكثر الحول حتى لو علفها نصف الحول أو أكثر كانت علوفة لأن القليل تابع للأكثر.(الهداية،فصل:ولیس في الفصلان والحملان والعجاجیل صدقة،ج:1 ،ص:100)
(وشرطه)أي شرط افتراض أدائها(حولان الحول)وهو في ملكه(وثمنية المال كالدراهم والدنانير)لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة(أو السوم)بقيدها الآتي(أو نية التجارة)في العروض.(رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکاۃ،ج: 2 ،ص:127)
(وقيمة العرض)للتجارة(تضم إلى الثمنين)لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا(و)يضم(الذهب إلى الفضة)وعكسه بجامع الثمنية(قيمة).(رد المحتارعلی الدرالمختار،باب زکاۃالمال،ج:2 ،ص:132)