بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
عادت سے زیادہ خون آنے کی صورت میں نماز کا حکم
سوال
ایک عورت کی حیض کی عادت چار دن ہے، لیکن اب اس کا خون پانچ دن کے بعد بھی جاری رہا تو کیا اب وہ غسل کر کے نماز پڑھے یا نہیں ؟ کیونکہ معلوم نہیں کہ یہ حیض ہوگا یا استحاضہ؟
جواب
جس عورت کی عادت پہلے سے مقرر ہو اگر کہیں ا سے عادت کے ایام سے زائد خون آئے تو وہ عورت فی الحال نمازنہیں پڑھے گی ، بلکہ انتظار کرے گی اگر خون دس دن سے زیادہ جاری رہا تو ایام عادت سے زائد ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے اور ان دنوں کی نماز وں کی قضا لازم ہوگی اور اگر دس دن یا اس سے پہلے خون رک گیا تو یہ تمام ایام حیض کے شمار ہوں گے۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت کی عادت چار دن ہو اور چار دن کے بعد بھی اس کا خون جاری رہے، تو جب تک اس کا خون دس دن سےتجاوز نہ کرے وہ نماز نہیں پڑھے گی اور اگر خون دس دن سے زیادہ جاری رہا ،تو ایام عادت سے زائد ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے ۔لہذا ایسی صورت میں ایام عادت کے علاوہ دنوں کی نمازوں کی قضا لازم ہوگی۔
وأما إذا زاد على عادتها المعروفة دون العشرة فقد اختلف فيه المشايخ فذهب أئمة بلخ إلى أنها تؤمر بالاغتسال والصلاة ؛ لأن حال الزيادة متردد بين الحيض والاستحاضة ؛ لأنه إن انقطع الدم قبل العشرة كان حيضا ، وإن جاوز العشرة كان استحاضة فلا تترك الصلاة مع التردد. وقال مشايخ بخارى : لا تؤمر بالاغتسال والصلاة ؛ لأنا عرفناها حائضا بيقين ، ودليل بقاء الحيض هو رؤية الدم قائم ولا يكون استحاضة حتى تستمر فيجاوز۔(العناية، كتاب الطهارة، باب الحيض والاستحاضة، ج:1، ص:150)