بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
غیر شرعی لباس کی تجارت کرنا
سوال
اگرکوئی شخص زنانہ کپڑوں کی بیچنےکا کاروبار کرتاہواوران کپڑوں میں وه كپڑے بھی ہوتے ہیں، جن میں بازو وغیرہ کھلے ہوتے ہیں یا باریک اور چست ہوتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا ان کپڑوں کی تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سےہر وہ چیز جو اپنی اصل کے اعتبار سے گناہ کا ذریعہ ہو اور جس کا استعمال ہر حال میں ناجائز ہو، تو اس کی خرید و فروخت جائز نہیں۔ البتہ وہ چیز جس کا استعمال جائز اور ناجائز دونوں طرح ممکن ہو، تو اس کی خرید و فروخت شرعاً درست ہے، اور اگر اسے ناجائز طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس کا گناہ استعمال کرنے والے پر ہوگا، چنانچہ کوئی کپڑا اگرغیر شرعی انداز میں سیا گیا ہو، تو اس کا اجنبیوں کے سامنے پہننا ناجائز ہے، لیکن شوہر کے سامنے تنہائی میں پہننا جائز ہے، لہٰذا ایسے کپڑے کی خرید و فروخت شرعاً گنجائش ہے،البتہ اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ خریدار اس کپڑے کو ناجائز طور پر استعمال کرے گا، تو پھر اسے بیچنا کراہت سے خالی نہیں ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر خواتین کے کھلے بازو یا باریک و چست لباس کا استعمال کسی حد تک جائز طریقے سے ممکن ہو، تو ایسے کپڑے کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے۔ تاہم چونکہ یہ لباس بے حیائی، عریانی اور پردے کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے ایسے لباس کی تجارت سے اجتناب بہتر ہے۔
لا يكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة لأنه ليس عينها منكرا وإنما المنكر في استعماله المحظور. (تبیین الحقائق، کتاب السیر، باب البغاۃ، ج:4، ص:199)
بيع الزنار من النصارى والقلنسوة من المجوس لا يكره وبيع المكعب المفضض من الرجل إذا علم أنه اشتراه للبس يكره. ( الفتاوى الهندية، کتاب البیوع، ج3، ص:197)
ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما، وإلا فتنزيها. (ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الحظر والإباحة، ج:9، ص:561)