بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

آپ ﷺپرجادو کا ثبوت


سوال

بعض لوگ اآپﷺپرجادو کو خلاف قرآن قرار دے کراس پر مختلف اعتراضات کرکے یہ کہتے ہیں کہ: آپﷺ پر جادو کے بارے میں جو کچھ ہے وہ قرآن کے خلاف ہے اوراس کے بارے میں جو احادیث ہیں وہ مجوسیوں کی باتیں ہیں۔لہذا آپ سے گزارش ہے کہ اس کے بارے میں رہنمائی فرمائے۔

جواب

واضح رہے کہ نبی ﷺ پر جادو  احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ، وہ روایات جن میں آپ ﷺ پر جادو کا تذکرہ ہےاسےحضرت عائشہ رضی اللہ عنہااور حضرت زیدر بن ارقم ضی اللہ عنہ سےمسلم، نسائی، ابن ماجہ، امام احمد، عبد الرزاق، بیہقی،طبرانی وغیرہ محدثین نے اتنی مختلف اور کثیر سندوں سے نقل کیا ہے کہ اُس کی صحت کے بارے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ پر جادو کے حوالے سے جو احادیث ہیں وہ یہ ہیں :

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں:رسول اللہﷺ پر جادو کیا گیا اور کیفیت یہ ہوئی کہ نبیﷺ سمجھنے لگے کہ فلاں کام آپ نے کر لیا ہے، حالانکہ وہ کام آپ نے نہیں کیا ہوتا اور نبیﷺ نے اپنے رب سے دعا کی تھی، پھر آپ نے فرمایا: تمھیں معلوم ہے، اللہ نے مجھے وہ بات بتا دی ہے جو میں نے اس سے پوچھی تھی۔عائشہؓ نے پوچھا: اللہ کے رسول ! وہ خواب کیا ہے؟فرمایا: میرے پاس دو مرد آئے اور ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤں کے پاس۔ پھر ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا:ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا، ان پر جادو ہوا ہے۔پہلے نے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔پوچھا: وہ جادو کس چیز میں ہے؟ جواب دیا کہ کنگھی پر کھجور کے خوشہ میں۔پوچھا: وہ ہے کہاں ؟کہا کہ ذروان میں اور ذروان بنی زریق کا ایک کنواں ہے۔عائشہؓ نے بیان کیا کہ پھر نبیﷺ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور جب عائشہؓ کے پاس دوبارہ واپس آئے تو فرمایا: وہاں کے کھجور کے درخت شیطان کے سر کی طرح تھے۔بیان کیا کہ پھر نبیﷺ تشریف لائے اور انھیں کنویں کے متعلق بتایا۔میں نے کہا:اللہ کے رسول ! پھر آپ نے اسے نکالا کیوں نہیں ؟ نبیﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ نے شفا دے دی اور میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ لوگوں میں ایک بری چیز پھیلاؤں۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث کئی مقامات پر مختلف الفظ کے ساتھ آئی ہے،اس کے علاوہ یہ صحیح مسلم اور سنن ابن ماجہ میں بھی ہے۔ (صحيح البخاري،كتاب بدأ الخلق،باب صفۃإبليس وجنوده،رقم الحدیث:3095)

زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود میں سے کسی نے آپ ﷺ پر جادو کیا ،جس کی وجہ سے آپﷺچنددن بیمار رہے۔جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا :ایک یہودی شخص نے آپ پر جادو کیا ہے،اس نے فلاں کنویں میں جادو کی گرہیں باندھی ہیں،تو نبی کریم ﷺنے کسی کو اس کے لانے کے لیے بھیجا ،چنانچہ آپﷺنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔انہوں نے اسے نکالا اور لے آئے،پھر اسے رسول اللہ ﷺ نے کھولا،راوی(زید ابن ارقم)کہتے ہیں کہ:اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ایسے کھڑے ہوئے جیسے کسی کی رسی کھول دی گئی ہو۔(مسند أحمد ، حديث زيد بن أرقم،رقم الحدیث:19267)۔یہ حدیث مسند احمدکے علاوہ سنن نسائی ،طبرانی ،مصنف ابن ابی شیبہ وغیر ہ میں بھی ہے۔

عقل پرست لوگ اس کو رد کرنے کے لیے مختلف باتیں کرتے ہیں،بعض لوگ حضورﷺ پر جادو کی روایت کو محض اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ یہ ہشام بن عروہ عن عائشہؓ کے طریق سےمروی ہے، ان کے زعم میں ہشام ثقہ نہیں اور ام المؤمنینؓ کے علاوہ کوئی اور اس اہم ترین واقعہ کا ذکر نہیں کرتا حالانکہ یہ درست نہیں ۔ امام احمد بن حنبلؒ نے  حضرت زید بن ارقمؓ سے اِسے نقل کیا ہے اور اس کی سند میں ہشام بن عروہؒ بھی نہیں۔ اس روایت میں آپﷺ پر جادو کی صراحت موجود ہے اور پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام کا آپ ﷺکے پاس آکر جادو کرنے والے اور اس کے مقام کے بارے میں بتانے کا بالکل واضح ذکر موجود ہے۔

جہاں تک ہشام کا تعلق  ہے تو ان کو ائمہ حدیث نے ثقہ قرار دیا ہے:

حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:"یقینا ہشام سے تمام ائمہ نے استدلال کیا ہے ۔"

محمد بن سعد نے کہا :"ثقہ تھے،ثبت تھے،حجت تھے،زیادہ احادیث روایت کرنے والے تھے۔"

ابو حاتم نے کہا :" ثقہ اور حدیث کا امام ہے۔"

ان روایات پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ معوذتین کا نزول مکہ میں نازل ہوا اور حضورﷺ پر جادو مدینے میں ہوا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے مدنی  یا مکی  ہونے  سے  متعلق  دونوں  طرح  کے  اقوال  مفسرین  نے  نقل  کیے  ہیں ،لیکن اکثر مفسرین جیسے علامہ آلوسیؒ،امام رازیؒ، ابن كثيرؒ،أبو حيان الأندلسيؒ،علامہ ابن جوزیؒ وغیرہ نے مدنی ہونے کے قول کو اصح قرار دیا ہے۔

اسی طرح یہ بات بھی خوب سمجھنی چاہیے کہ کسی سورۃ یا آیت کے متعلق جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب لازماً یہی نہیں ہوتا کہ وہ صرف اُسی موقع پر نازل ہوئی تھی، بلکہ بعض اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک سورت یا آیت پہلے نازل ہوچکی ہوتی تھی، اور پھر کوئی خاص واقعہ یا صورتِ حال پیش آنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسی کی طرف دوبارہ بلکہ کبھی کبھی بار بار حضور ﷺکو توجہ دلائی جاتی تھی۔  

اس روایت کے جملوں "آپ کو خیال گزرتا"،"ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ " اور "اللہ نے مجھے شفا دے دی ہے" سے معلوم ہوتا ہے کہ جادو کا اثر صرف آپﷺ کے جسم تک ہی محدود تھا، نبوت ورسالت اس اثر سے محفوظ تھی ۔ چنانچہ اس عرصے میں آپﷺ نے جادو کے اثر سے کوئی شرعی حکم یا عمل ترک نہیں کیا۔ منکرین حدیث نے جو صحیح بخاری کے حوالے سے یہ کہا کہ آپ کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ"حتیٰ کہ یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے نماز پڑھ لی یا نہیں ۔"توبخاری کی کسی بھی حدیث میں اس بات کا تذکرہ موجود نہیں کہ آپ کو نماز پڑھنے نہ پڑھنے کا بھی یاد نہیں رہتا تھا۔ اوپر بیان کردہ حدیث میں"آپ سمجھنے لگے کہ فلاں کام آپ نے کر لیا ہے حالانکہ وہ کام آپ نے نہیں کیا تھا" کا تذکرہ ہوا ہے۔  اس کے علاوہ اور الفاظ بھی ہیں جو روایات میں وارد ہیں۔
بہر حال آپﷺ پر جادو کا اثر جسمانی حد تک تھا روحانیت اس سے متاثر نہیں ہوئی تھی۔ اسی لیے آپ کی دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں آیاتھا، یہی وجہ ہے کہ عام لوگ آپﷺ پر جادو کیے جانے کے واقعہ سے واقف تک نہ تھے۔ امہات المؤمنین میں سے بعض اس سحر کے اثرات سے واقف تھیں۔ جب یہ اثرات جسم کی حد تک تھے تو سحر کے نبیﷺپر اثر کر جانے کو عصمت نبوت کے منافی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے؟

ابن القیم ؒفرماتے ہیں کہ:"اس جادو کا اثر صرف آپﷺ کے ظاہری جسم اور حواس پر تھا ،آپ ﷺ کے دل و دماغ اور عقل پر اس کا کچھ اثر نہیں تھا۔"

 

عن عائشة قالت:سحر النبي ﷺ،حتى كان يخيل إليه أنه يفعل الشيء وما يفعله،حتى كان ذات يوم دعا ودعا،ثم قال:(أشعرت أن الله أفتاني فيمافيه شفائي،أتاني رجلان:فقعد أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي،فقال أحدهما للآخر ما وجع الرجل؟ قال:مطبوب،قال:ومن طبه؟ قال:لبيد ‌ابن ‌الأعصم،قال:فيما ذا؟ قال:في مشط ومشاقة وجف طلعة ذكر،قال:فأين هو؟قال:في بئر ذروان).فخرج إليها النبيﷺ ثم رجع،فقال لعائشة حين رجع:(نخلها كأنه رؤوس الشياطين).فقلت:استخرجته؟ فقال:(لا،أما أنا فقدشفاني الله،وخشيت أن يثير ذلك على الناس شرا).ثم دفنت البئر. (صحيح البخاري،كتاب بدأ الخلق،باب صفة إبليس وجنوده،رقم الحديث:3095)

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «مكث النبي ﷺ كذا وكذا ‌يخيل إليه ‌أنه ‌يأتي ‌أهله ولا يأتي...إلخ.(صحيح البخاري،كتاب الأدب، باب قول الله تعالى إن الله يأمر بالعدل والإحسان،رقم الحديث:6063)

عن عائشة رضي الله عنها قالت:كان رسول الله ﷺ سحر، حتى ‌كان ‌يرى ‌أنه ‌يأتي ‌النساء ولا يأتيهن....إلخ.(صحيح البخاري،كتاب الطب،باب: هل يستخرج السحر،رقم الحديث:5432)

عن عائشة قالت:سحر النبي صلى الله عليه وسلم حتى إنه ‌ليخيل ‌إليه ‌أنه ‌يفعل الشيء وما فعله....إلخ.(صحيح البخاري،كتاب الطب،باب: باب السحر،رقم الحديث:5433)

«عن زيد بن أرقم قال: ‌سحر ‌النبي ﷺ رجل من اليهود، قال: فاشتكى لذلك أياما. قال: فجاءه جبريل عليه السلام، فقال: إن رجلا من اليهود سحرك، عقد لك عقدا في بئر كذا وكذا، فأرسل إليها من يجيء بها، فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا رضي الله عنه، فاستخرجها، فجاء بها، فحلها. قال: فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم كأنما نشط من عقال، فما ذكر لذلك اليهودي، ولا رآه في وجهه قط حتى مات».(مسند أحمد،حديث زيد بن أرقم،رقم الحديث:19267،وکذا أخرجه أبو بكر بن شيبة في مصنفه،كتاب الطب،في الرجل يسحر ويسم فيعالج،رقم الحديث:25063،وكذا أخرجه الطبراني في معجمه،باب الزاي، يزيد بن حيان التيمي، عن زيد بن أرقم،رقم الحديث:5016)

قال ابن حجر العسقلاني:وقد احتج بهشام جميع الأئمة.(مقدمة فتح الباری، الفصل التاسع في سياق أسماء من طعن فيه من رجال هذا الكتاب مرتبا لهم على حروف المعجم،ج:1،ص:384)

قال إبن سعد:كان ثقة، ثبتًا، حجة، كثير الحديث.(تهذيب الأسماء واللغات،القسم الأول،حرف الهاء،من اسمه هشام،رقم الترجمة:651،ج:2،ص:137)

قال أبو حاتم:ثقة إمام في الحديث.(تهذيب الكمال في أسماء الرجال،باب الهاء،من اسمه هشام،رقم الترجمة:6575ج :30،ص:232)

وفيها قولان:أحدهما:مدنية رواه أبو صالح عن ابن عباس،وبه قال قتادة في آخرين.والثاني: مكية رواه كريب عن ابن عباس، وبه قال الحسن، وعطاء، وعكرمة، وجابر.والأول أصح،ويدل عليه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سحر وهو مع عائشة،فنزلت عليه المعوذتان.(زاد المسير في علم التفسير،سورة الفلق،ج:4،ص:507)

تفسير سورتي المعوذتين، وهما مدنيتان.(تفسير ابن كثير، تفسير سورتي المعوذتين، وهما مدنيتان،ج:8،ص:530)

هذه السورة مكية في قول الحسن وعطاء وعكرمة وجابر،وروايةُ كريب عن ابن عباس مدنية، في قول ابن عباس في رواية صالح وقتادة وجماعة.قيل: وهو الصحيح. وسبب نزول المعوذتين قصة سحر لبيد بن الأعصم اليهودي رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو جف، والجف قشر الطلع فيه مشاطة رأسه عليه الصلاة والسلام وأسنان مشطه، ووتر معقود فيه إحدى عشرة عقدة مغروز بالإبر،فأنزلت عليه المعوذتان،فجعل كلما قرأ آية انحلت عقدة،ووجد صلى الله عليه وسلم في نفسه خفة حتى انحلت العقدة الأخيرة،فقام فكأنما نشط من عقال.(البحر المحيط في التفسير،سورة الفلق،ج:10،ص:575)

وقد ينزل الشيء ‌مرتين ‌تعظيما ‌لشأنه وتذكيرا به عند حدوث سببه خوف نسيانه... والحكمة في هذا كله أنه قد يحدث سبب من سؤال أو حادثة تقتضي نزول آية وقد نزل قبل ذلك ما يتضمنها فتؤدى تلك الآية بعينها إلى النبي صلى الله عليه وسلم تذكيرا لهم بها وبأنها تتضمن هذه.... ومما يذكره المفسرون من أسباب متعددة لنزول الآية قد يكون من هذا الباب لاسيما وقد عرف من عادة الصحابة والتابعين أن أحدهم إذا قال نزلت هذه الآية في كذا فإنه يريد بذلك أن هذه الآية تتضمن هذا الحكم لا أن هذا كان السبب في نزولها.(البرهان في علوم القرآن،النوع الأول،معرفة أسباب النزول،ج:1،ص:29-32)

قال ابن القيم:وكان غاية هذا السّحر فيه إنّما هو في جسده،وظاهر جوارحه لا على عقله وقلبه. (زاد المعاد في هدي خير العباد،القسم الأول العلاج بالأدوية الطبيعية،فصل علاج السحر بالأذكار والآيات،ج:4،ص:116)


فتویٰ نمبر : 6429/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور