بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
فجر اور عصر کی جماعت رہ جانے کی صورت میں تکبیر اولی پانے کی صورت
سوال
اگر کسی شخص نے تکبیر اولی کا اہتمام شروع کیا ہو لیکن کبھی کبھاراگراس سے عصر یا فجر کی نماز رہ جائے اور کوئی مفترض نہ مل رہا ہو کہ اس کے ساتھ جماعت کرسکے،تو تکبیر اولی کے ساتھ نماز پڑھنے کی جو فضیلت ہے اس کے ادراک کی کیا صورت ہوگی؟کیونکہ عصر اور فجر کے بعد تو نفل جائز نہیں ہے کہ کسی متنفل کو اپنے پیچھے کھڑا کردے۔
جواب
واضح رہے کہ صبح صادق سے طلوع آفتاب (یعنی نمازِ فجر کا وقت شروع ہونے سے لے کر اشراق کا وقت ہونے تک) اورعصر کی نماز ادا کرنے کے بعد سے غروب تک،ان دو اوقات میں نفل نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے تکبیر اولی کا اہتمام شروع کیا ہو اور اس سےعصر یا فجر کی جماعت رہ جائے تو کوشش کرےکہ کوئی مفترض ملے اوراس کے ساتھ جماعت پڑھ لے،لیکن اگر کوئی مفترض نہ مل رہاہو تو اکیلے ہی نماز پڑھ لے،تکبیر اولی کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے کسی متنفل کی امامت نہ کرے ،کیونکہ یہ اس کے حق میں مکروہ تحریمی ہوگا۔
(قوله:ويكره أن يتنفل بعد صلاة الفجرحتى تطلع الشمس وبعد صلاة العصرحتى تغرب الشمس)يعني قصدا أما لو قام في العصر بعد الأربع ساهيا أو في الفجر لا يكره ويتم؛لأنه من غير قصد وفي الخجندي لا يضيف ركعة في الفجر والعصر؛لأن التطوع بعدهما مكروه ولو أفسدها ولم يضف إليها أخرى لا يلزمه قضاؤها وعند زفر يلزمه قضاء ركعتين.(الجوهرة النيرة،کتاب الصلاۃ، باب النوافل،ج:1،ص:70)
(وكره نفل)قصدا ولو تحية مسجد(وكل ما كان واجبا)لا لعينه بل...(بعد صلاة فجر و)صلاة(عصر)ولو المجموعة بعرفة(لا)يكره (قضاء فائتة).قال ابن عابدين:(قوله: وكره نفل إلخ)شروع في النوع الثاني من نوعي الأوقات المكروهة وفيما يكره فيها،والكراهة هنا تحريمية أيضا كما صرح به في الحلية ولذا عبر في الخانية والخلاصة بعدم الجواز،والمراد عدم الحل لا عدم الصحة كما لا يخفى. (ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الصلاة،ج:1،ص:374)