بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تقسیم سے پہلے وراثت پر زکوٰۃ اور حج کے احکام


سوال

میرے نانا کا انتقال ہوچکا ہے، اس کی جائیداد اب تک تقسیم تونہیں ہوئی ہے، لیکن اگر بالفرض تقسیم کی جائے، تو میری والدہ کے حصے میں تین کنال زمین آتی ہے، جسکی قیمت تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ بنتی ہے، اور میرے ماموں میری والدہ کو اس کا حصہ دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن میری والدہ اپنے بھائیوں سے اپنا حصہ نہیں لینا چاہتی ہے، نیز یہ زمین میری والدہ کے حوائجِ اصلیہ سے بھی زائد ہے، اب سوال یہ ہےکہ یہ وراثت کی زمین خود بخود وارث کی ملکیت بن کراس پر حج اور زکوٰۃ کے احکامات واجب ہوں گے یا تقسیم کے بعد؟

جواب

واضح رہےکہ تقسیمِ میراث سے پہلے کسی وارث کا  اپنے شرعی حصے سے بلا عوض دستبردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں، البتہ جب ترکہ تقسیم ہوجائے اورہر وارث اپنے حصے پر قبضہ کرلے، تو اس کے بعد اپنا حصہ خوشی سے جس کو دینا چاہے دے سکتا ہے۔ نیز ترکہ تقسیم سے پہلے اگر چہ ورثا کی ملکیت میں ہوتا ہے، لیکن جب تک باقاعدہ قبضہ نہ ہو، ہر وارث کا حصہ دینِ ضعیف کے حکم میں ہوتا ہے، اور دینِ ضعیف پر قبضہ کرنے سے پہلے زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، اس لیے ترکہ پراس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، جب تک اس پر قبضہ نہ کیا جائے، چنانچہ تقسیم کے بعداگر  کسی شریک کا حصہ اور اس کے ساتھ موجود دیگرا موالِ زکوٰۃ(یعنی سونا، چاندی، نقدی یا مالِ تجارت) کو ملا کر نصاب کے بقدر ہو جائے، تو حولانِ حول کے بعد اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ جس آدمی کےپاس حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ اتنی رقم موجود ہو جس سے وہ حج کے اخراجات ادا کر سکتا ہواور واپس آنے تک گھر کے اہل و عیال کا خرچہ بھی موجود ہو تو اس پر حج فرض ہوجاتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ جائیداد ابھی تک باقاعدہ تقسیم نہیں ہوئی، اس لیے سائل کی والدہ کا اپنے حصے سے دستبردار ہونا معتبر نہیں، بلکہ وہ اس جائیداد میں اپنے حصے کی مالکہ ہے۔ تاہم چونکہ ابھی تک ملکیت تام نہیں ہےاس لیے اس پر اس حصے میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ البتہ اگر اس کے پاس اس زمین کے علاوہ کوئی اور نصاب کے بقدر مالِ زکوٰۃ ہو، تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ نیز تقسیمِ ترکہ سے قبل اگر سائل کی والدہ کے پاس اس زمین کے علاوہ اتنی رقم موجود نہ ہو جس سے وہ حج کے اخراجات ادا کرسکے، تومحض اس موروثہ زمین کی وجہ سے اس پرحج فرض نہیں ہے۔

 

لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه، إذ الملك لايبطل بالترك. (الأشباه والنظائر لإبن نجيم، الفن الثالث، ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لايقبله، ص:174)

ووجوب الزكاة وظيفة الملك المطلق وعلى هذا يخرج قول أبي حنيفة في الدين الذي وجب للإنسان لا بدلا عن شيء رأسا كالميراث بالدين والوصية بالدين، أو وجب بدلا عما ليس بمال أصلا كالمهر للمرأة على الزوج، ‌وبدل ‌الخلع ‌للزوج ‌على ‌المرأة، والصلح عن دم العمد أنه لا تجب الزكاة فيه. (بدائع الصنائع، كتاب الزكاة، فصل شرائط فرضية الزكاة، ج:2، ص:10)

‌وأما ‌سائر ‌الديون ‌المقر ‌بها ‌فهي ‌على ‌ثلاث ‌مراتب ‌عند ‌أبي ‌حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابا ويحول عليه الحول. ووسط، وهو ما يجب بدلا عن مال ليس للتجارة كعبيد الخدمة وثياب البذلة إذا قبض مائتين زكى لما مضى في رواية الأصل وقوي، وهو ما يجب بدلا عن سلع التجارة إذا قبض أربعين زكى لما مضى كذا في الزاهدي. (الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسيرالزكاة وصفتها و أركانها، ج:1، ص:175)

وشرائطه ثلاثة ‌شرائط ‌وجوب ‌وشرائط ‌وجوب ‌أداء وشرائط صحة فالأولى ثمانية على الأصح الإسلام والعقل والبلوغ والحرية والوقت والقدرة على الزاد والقدرة على الراحلة والعلم بكون الحج فرضا. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الحج، ج:2، ص:331)

ولا بد من ‌القدرة ‌على ‌الزاد ‌والراحلة؛ لأنه عليه الصلاة والسلام فسر الاستطاعة به ويعتبر أن يكون مالكا له وقت خروج أهل بلده ولا يعتبر قبله حتى جاز له أن يصرف ماله فيما أحب فإذا صرفه ولم يبق له شيء عند خروجهم فلا حج عليه. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الحج، ج:2، ص:4)


فتویٰ نمبر : 10684/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور