بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 03/11/2026 |
دکاندار کے پاس خریداری کے لیے گاہک بھیجنے پر اجرت لینا
سوال
ایک شخص بور مشین پر کام کرتا ہے، کام کے دوران اگر پائپ وغیرہ سامان کی ضرورت پیش آجائے، تو وہ جن لوگوں کے لیے بورنگ کرتا ہے ان سے کہتاہے، کہ فلاں شخص کی دکان سے سامان لے آؤ، اور اس نے پہلے سے اس دکاندار سے یہ طےکیا ہوتاہے کہ جب میں تمہارے پاس کسی کوسامان لینے کے لیے بھیجوں، تو تم مجھے اس سامان کی فروخت پر اتنا اتنا کمیشن دیا کروگے، کیا اس طرح کمیشن لینا جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ خریدوفروخت کے معاملات میں بائع اور مشتری کے درمیان واسطہ بننے والے شخص کو"دلال" یا " سمسار" کہا جاتا ہے۔ فقہائے کرام نے ضرورت اور کثرتِ تعامل کی پیشِ نظردلال کی اجرت کو جائز قرار دیاہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر بور مشین پر کام کرنے والے شخص نےدکاندار کے ساتھ یہ طے کر رکھا ہو، کہ وہ اس کے پاس سامان خریدنے کے لیے گاہک بھیجے گا اور اس کے بدلے متعین اجرت لے گا، تو اس کی حیثیت دلال کی ہوگی۔ لہٰذا اس کےلیے اس عمل کے عوض اجرت وصول کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس عمل میں کسی قسم کا دھوکہ دہی یا فریب نہ ہو۔
وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الاجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:6، ص:63)