بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

وکیل کا زکوۃ کے مال کو خود استعمال کرنا


سوال

اگر مزکی نے کسی شخص کو زکوۃ کی ادائیگی کے لئےوکیل بناتے ہوئےیہ کہا کہ جہاں تم مناسب سمجھو اس کو خرچ کرو،  اور وکیل خود غر يب ہوتو کیاوکیل اس مال میں سے اپنےاوپر خرچ کر سکتاہےیا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ اگر وکیل کو اس شرط پر زکوۃ کی رقم دی گئی ہو کہ اس کو مخصوص افرادیا مخصوص ادارے تک پہنچائے تو ایسی صورت میں زکوۃ کی رقم ذاتی طور پر خرچ کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی، لیکن اگر مزکی نے مطلقا اختیار دیا ہو اور یوں  کہہ دیا ہو کہ "جو چاہے کرو جسے چاہے دو" تو اسں طرح اجازت کے بعد اگر وکیل خود زکوۃ کامستحق  ہو تو زکوۃ اپنے لیے قبض کرنے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی۔        

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر مزکی نے یہ کہا ہوکہ جہاں تم مناسب سمجھواس کو خرچ کرواوروکیل خود مستحق زکوۃ ہوتو وہ خود بھی استعمال  کرسکتاہےاور دوسروں کو بھی دے سکتا ہے۔

 

وللوكيل أن يدفع لولده الفقير،وزوجته لا لنفسه إلاإذا قال ربها ضعها حيث شئت۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب الزکوۃ، ج:3،ص:188،189)


فتویٰ نمبر : 10686/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور