بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
وقف شدہ زمین کودوسری زمین سے بدلنا
سوال
ایک شخص نے تالاب کی وسعت کے خاطرزمین وقف کی تھی لیکن اب تالاب ختم ہوچکا ہے،وقف کے متولین حضرات چا ہتے ہیں کہ اس موقوفہ زمین کو خانقاہ کے لیے وقف کردیں، کیا تالاب کی خاطروقف زمین کو خانقاہ کے لیے وقف کرنا اس صورت میں جائز ہے؟کیا موقوفہ زمین کا تبادلہ کسی دوسری زمین سے جائز ہے کیونکہ اس موقوفہ زمین کےساتھ آرمی کا اسلحہ ڈیو ہے اور تعمیر کی اجازت نہیں دیتےتوکیا اس کا کسی دوسرے زمین سے تبادلہ کرنا جائز ہے؟
جواب
جاننا چاہیے کہ اگر واقف نے اپنے لیے یا کسی دوسرے شخص کے لیے حق استبدال کی شرط لگائی ہوتواس صورت میں استبدال جائز ہےاوراگر واقف نےاس کی شرط نہیں لگائی لیکن مقاصد وقف کا حصول استبدال پرہی موقوف ہوں تواس صورت میں مقاصد وقف کو جاری رکھنے کی خاطر استبدال کی گنجائش چند شرائط کے ساتھ پائی جاتی ہے جن میں ایک یہ کہ موقوفہ زمین کو مناسب اورمروجہ قیمت پرفروخت کیاجائےدوسری یہ کہ بیع کی اجازت قاضی/عدالت کی طرف سے ملے،تیسری یہ کہ موقوفہ زمین کے بدلے زمین ہی خریدی جائے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق جب واقف نے زمین تالاب کی وسعت کی خاطروقف کیا ہوا تھا اورحکومتی پابندی کی وجہ سے اس پرکوئی تعمیر بھی نہیں کی جاسکتی توا یسی صورت میں مندرجہ بالا شرائط کی رعایت کے ساتھ وقف شدہ زمین کو کسی دوسری زمین سے بدلنے کی گنجائش ہے۔
وأجمعوا أنه إذا شرط الاستبدال لنفسه في أصل الوقف أن الشرط والوقف صحيحان ويملك الاستبدال أما بدون الشرط أشار في السير أنه لا يملك الاستبدال إلا القاضي إذا رأى المصلحة.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب الوقف،ج:5،ص:240)
(قوله: وشرط في البحر إلخ) عبارته وقد اختلف كلام قاضي خان في موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف، حيث رأى المصلحة فيه وفي موضع منع منه: لو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه بلا شرط يجوز للقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية، وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش، وشرط الإسعاف أن يكون المستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل لئلا يحصل التطرق إلى إبطال أوقاف المسلمين كما هو الغالب في زماننا.(ردالمحتار على الدرالمختار،ج4،ص:386)
(قوله: إلا في أربع) الأولى: لو شرطه الواقف... الرابعة: أن يرغب إنسان فيه ببدل أكثر غلة، وأحسن صقعا فيجوزعلى قول أبي يوسف وعليه الفتوى كما في فتاوى قارئ الهداية.(ردالمحتارعلى الدر المختار،ج:4،ص:388)