بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بھنگ اور افیون میں عشر
سوال
کیا بھنگ اور افیون میں عشر واجب یا نہیں۔ اگر عشر واجب ہے تو کیا چرس بننے سے پہلے واجب ہے یا چرس بنا کر بھیجنے کی صورت میں بھی واجب ہے۔ نیز چرس اور افیون نشہ کے طور پر استعمال کرنا حرام ہے تو کیا حرام مال میں عشر واجب ہوتا ہے یا وہ سب واجب التصدق ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ ہمارے علاقے میں صرف چرس بنانے اور اسی طرح افیون نشہ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے کاشت کی جاتی ہے تو کیا اس حالت میں بھی اس میں عشر واجب ہے؟
جواب
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے،کہ آج کل معاشرے میں بھنگ اورافیون کا استعمال بالعموم مضر صحت منشیات کے طور پر ہوتاہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ بطور منشیات متعارف ہے، اور لاکھوں لوگ اس کے عادی بن کر اپنی صحت اور زندگی کوداؤ پر لگا چکے ہیں۔چنانچہ ان حالات کےپیش نظر ہر عام وخاص کے لیےاس کی کا شت کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے۔البتہ اگر حکومت دواؤں میں استعمال کی خاطریا کسی اور جائز مقصد کے لیے اپنی نگرانی میں محدود پیمانے پر اس کو کاشت کرے تو اس کی گنجا ئش ہوگی۔
صورت مسؤلہ میں اگر بھنگ اور افیون کی کاشت منشیات ہی کے لئےہوئی ہوتواس کا کاشت کرنا حرام ہے اور حرام کاشت میں عشرواجب نہیں ہوتا۔بلکہ اس پوری کاشت کوضائع کرنا ضروری ہے،اور اگر اس کو فروخت کرکے مال حاصل کیا گیاہو تو اس کو بلا نیت ثواب فقرا پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔
عن أنس قال كنت ساقي القوم في منزل أبي طلحة وكان خمرهم يومئذ الفضيخ فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم مناديا ينادي ألا إن الخمر قد حرمت فقال لي أبوطلحة اخرج فأهرقها قال فخرجت فهرقتها فجرت في سكك المدينة.(صحيح البخاري،كتاب الغصب،باب في المظالم،باب صب الخمرفي الطريق،رقم الحديث : 2464،ج2،ص656)
عن نافع، عن ابن عمر. قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم"كل مسكر خمر. وكل مسكر حرام". (صحيح مسلم،كتاب الأشربة،باب بيانه أنه كل مسكر خمر،وأنه كل خمرحرام،رقم الحديث:2003،ج3ص1587)
(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية ولو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الزكاة،باب زكاة الغنم،ج3ص218)
ويجب العشر عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز وأصناف الحبوب والبقول والرياحين والأوراد والرطاب وقصب السكر والذريرة والبطيخ والقثاء والخيار والباذنجان والعصفر وأشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقية قل أو كثر.(الفتاوی الهندية،كتاب الزكاة،الباب السادس:فى زكاةالزرع والثمار،ج:1، ص: 247)