بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مسئلہ تقدیر اور اس پر اشکال
سوال
ایک شخص کہتا ہے کہ :تقدیر کی کچھ حقیقت نہیں ہے؛کیونکہ جب ہر چیزتقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور اس سے مخالفت نہیں ہوسکتی تو پھر انسان سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں ان پر اس کی گرفت کیوں ہوتی ہے؟
جواب
احادیث مبارکہ کی رو سے تقدیر کے مسئلے میں بے جا بحث ومباحثہ ممنوع ہے کیونکہ یہ نازک موضوع ہے اور ہر ذہن کے لیے اس کی تہہ تک پہنچناممکن نہیں ،اس لیے اس بارےمیں اشکالات ذہن میں لانا اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے ۔تقدیر پر ایمان رکھنا ایمان کاحصہ ہے، اگر کوئی تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا اور بلا کسی تاویل کے سرے سےتقدیر کا انکار کرتا ہے تو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ "جب ہرچیز تقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور اس سے مخالفت نہیں ہوسکتی تو پھر انسان سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں ،ان پر اس کی گرفت کیوں ہوتی ہے"تو یہ سوال غلط فہمی پر مبنی ہے۔تقدیر سے مخالفت نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں انسانی زندگی تقدیرکی تابع ہےاور تقدیر ہی اس کے لیے سبب ہے،جس کی وجہ سے انسانی زندگی کے اعمال معرض وجود آتے ہیں،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی اللہ تعالٰی کے سامنے تھی اور اللہ تعالٰی کا علم قطعی اور یقینی ہے،اس لیے انسان زندگی بھر اختیار سے جو کچھ کرتا ہے،اللہ تعالٰی نے اس کو تقدیر میں لکھا ہے۔اللہ تعالٰی کے علم سے مخالفت ناممکن ہے،اس لیے تقدیر سے خلاف ورزی نہیں ہوسکتی۔
حدثنا أبو الخطاب زياد بن يحيى البصري،قال:حدثنا عبد الله بن ميمون،عن جعفر بن محمد،عن أبيه،عن جابر بن عبد الله قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«لا يؤمن عبد حتى يؤمن بالقدر خيره وشره»،حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه، وأن ما أخطأه لم يكن ليصيبه.وفي الباب عن عبادة،وجابر،وعبد الله بن عمرو. (سنن الترمذي،أبواب القدر،باب ما جاء في الإيمان بالقدر خيره وشره،رقم الحديث:2144)
عن يحيى بن يعمر قال:«كان أول من قال في القدر بالبصرة معبد الجهني،فانطلقت أنا وحميد بن عبد الرحمن الحميري حاجين أو معتمرين،فقلنا:لو لقينا أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم،فسألناه عما يقول هؤلاء في القدر،فوفق لنا عبد الله بن عمر بن الخطاب داخلا المسجد،فاكتنفته أنا وصاحبي،أحدنا عن يمينه،والآخر عن شماله،فظننت أن صاحبي سيكل الكلام إلي،فقلت:أبا عبد الرحمن،إنه قد ظهر قبلنا ناس يقرؤون القرآن،ويتقفرون العلم،وذكر من شأنهم،وأنهم يزعمون أن لا قدر،وأن الأمر أنف،قال:فإذا لقيت أولئك فأخبرهم أني بريء منهم، وأنهم برآء مني...إلخ. (صحيح مسلم،كتاب الإيمان،باب الإيمان بالقدر،رقم الحديث:8)
قلت:أحاديث الباب من بين الصحاح والحسان والضعاف غير الساقطات تدل بمجموعها على أن الإيمان بالقدر من غير بحث ومنازعة من ضروريات الدين وركن من أركان الإسلام،فالظاهر أن إنكار القدر وتكذيبه من البدع المكفرة،والله أعلم. (مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،باب الإيمان بالقدر،الفصل الثاني،ج:1،ص:193،رقم الحديث:105)