بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تلاوت قرآن پر اجر وثواب


سوال

بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کی تلاوت پر اجر وثواب یہ محدثین کے جھوٹ ہیں جو کہ وہ نبی علیہ السلام پر بولتے ہیں ،اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

قرآنِ مجیداللہ تعالٰی کی آخری اور مکمل کتاب ہے جوعربی میں نازل ہوئی ہے،اس کی تلاوت نہ صرف ثواب کا ذریعہ ہے بلکہ روحانی سکون ،قلبی اطمینان اور دنیا وآخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھی ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس کے بکثرت فضائل بیان ہوئے ہیں۔

عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنےفرمایا :جس نے قرآن کاایک حرف پڑھا اس کو اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی اورہر نیکی کا بدلہ دس گنا تک ہے،میں یہ نہیں کہتاکہ:"الم"ایک حرف  ہے، بلکہ"الف"الگ حرف ہے،"لا"م الگ حرف ہے اور"میم"الگ حرف ہے۔(سنن الترمذي،أبواب فضائل القرآن،باب ماجاء فيمن قرأ حرفا من القرآن مالہ من أجر،رقم الحديث:2910)

اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ:"بے شک یہ دل بھی زنگ آلود ہوجاتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے "عرض کیا گیا :اس زنگ کو دور کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:"موت کو زیادہ یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا۔"(شعب الإيمان،تعظيم القرآن، فصل في إدمان تلاوة القرآن،رقم الحديث:2015)

ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:قرآن پڑھو ،کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنےپڑھنے والوں کے لیے سفارش کرےگا۔(صحيح مسلم،باب فضل قراءة القرآن وسورةالبقرة،رقم الحديث:804)

ان کے علاوہ اور بھی کئی احادیث ہیں جن کو محدثین نے باقاعدہ سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے ،کتب حدیث میں فضائل قرآن پر مستقل ابواب قائم کیے گئے ہیں اور اس کے علاوہ فضیلت قرآن کے موضوع پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں.

لہذا مستند احادیث کو محدثین کا جھوٹ کہہ کران کا انکار کرنا بہت خطرناک ہے،اس سے سارے ذخیرہ احادیث پر بے اعتمادی کی فضا قائم ہوکر دین بیزاری کی طرف راستہ کھلتا ہے،اس لیے کوئی سمجھدار انسان اس کی جرأت نہیں کرسکتا۔

 

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ (29) لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ (30) ﴾ (فاطر: 29-30)

عن أيوب بن موسى،قال:سمعت محمد بن كعب القرظي يقول:سمعت عبد الله بن مسعود،يقول:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«‌من ‌قرأ ‌حرفا ‌من ‌كتاب ‌الله ‌فله ‌به ‌حسنة،‌والحسنة ‌بعشر ‌أمثالها،لا أقول الم حرف،ولكن ألف حرف ولام حرف وميم حرف» (سنن الترمذي،أبواب فضائل القرآن،باب ماجاء فيمن قرأ حرفا من القرآن ماله من أجر،رقم الحديث:2910)

عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«‌إن ‌هذه ‌القلوب ‌تصدأ ‌كما يصدأ الحديد إذا أصابه الماء قيل: يا رسول الله وما جلاؤها قال: كثرة ذكر الموت وتلاوة القرآن». (شعب الإيمان،تعظيم القرآن، فصل في إدمان تلاوة القرآن،رقم الحديث:2015)

عن أبي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"‌مثل ‌المؤمن ‌الذي ‌يقرأ ‌القرآن ‌مثل الأترجة، طعمها طيب، وريحها طيب، ومثل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن مثل التمرة، طعمها طيب، ولا ريح لها، ومثل المنافق الذي يقرأ القرآن كمثل الريحانة، طيب ريحها، ولا طعم لها ". وقال يحيى مرة: " طعمها مر، ومثل المنافق الذي لا يقرأ القرآن مثل الحنظلة، لا ريح لها، وطعمها خبيث " (مسند أحمد،حديث أبي موسى الأشعري،رقم الحديث:19665)

حدثني أبوأمامةالباهلي قال:سمعت رسول اللهﷺ يقول:اقرؤوا القرآن فإنه يأتي يوم القيامة شفيعا لأصحابه.(صحيح مسلم،باب فضل قراءة القرآن وسورةالبقرة،رقم الحديث:804)

عن عقبة بن عامر قال: «خرج رسول الله ﷺ ونحن في الصفة فقال: أيكم يحب أن يغدو كل يوم إلى بطحان أو إلى العقيق فيأتي منه بناقتين كوماوين في غير إثم ولا قطع رحم؟ فقلنا: يا رسول الله، نحب ذلك! قال: ‌أفلا ‌يغدو ‌أحدكم ‌إلى ‌المسجد فيعلم أو يقرأ آيتين من كتاب الله عز وجل خير له من ناقتين، وثلاث خير له من ثلاث، وأربع خير له من أربع. ومن أعدادهن من الإبل ».(صحيح مسلم، باب فضل قراءة القرآن في الصلاة وتعلمه،رقم الحديث:803)


فتویٰ نمبر : 6395/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور