بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
جہاز میں قبلہ کا رخ معلوم کرنا
سوال
جہاز میں اگر قبلہ کے رخ کاتعین نہ ہو سکےاور کوئی تحری کرکے نماز پڑھ لے تو کیا اجتہاد کافی ہے؟یا اترنے کے بعد نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
جواب
اگر کسی شخص کو قبلہ کی سمت معلوم نہ ہو اور اس کے آس پاس کوئی ایسا شخص بھی نہ ہو جس سے پوچھ سکے،اور نہ کسی اور طریقے (قبلہ نمایا کوئی ایپ وغیرہ استعمال کرنے)سے معلوم کرنا ممکن ہو، تو وہ اپنی سوچ و فکرسے اندازہ لگا کر نماز پڑھ لے، اور اگر بعد میں پتا چلے کہ وہ قبلہ کی سمت غلط تھی، تو اسے نماز دوبارہ نہیں پڑھنی ہوگی۔ لیکن اگر نماز کے دوران معلوم ہو جائے کہ قبلہ ادھر نہیں، تو رخ موڑ کر صحیح قبلہ کی طرف ہو جائے اور نماز جاری رکھے۔
جہاز میں اگر قبلہ کے رخ کا تعین نہ ہوسکےاور تحری کےعلاوہ کسی اور طریقے سے معلوم کرنا بھی ناممکن ہو تو ایسی صورت میں اگر کوئی تحری کرکے کھڑے ہوکر رکوع و سجدہ کے ساتھ نماز پڑھ لے تو یہ اس کے لیےکافی ہے، بعد میں زمین پر اتر کر نمازنہیں پڑھنی ہوگی۔
وإن اشتبهت عليه القبلة وليس بحضرته من يسأله عنها اجتهد وصلى، كذا في الهداية. فإن علم أنه أخطأ بعدما صلى لايعيدها وإن علم وهو في الصلاة استدار إلى القبلة وبنى عليها، كذا في الزاهدي. وإذا كان بحضرته من يسأله عنها وهو من أهل المكان عالم بالقبلة فلا يجوز له التحري، كذا في التبيين. ولو كان بحضرته من يسأله عنها فلم يسأله وتحرى وصلى فإن أصاب القبلة جاز وإلا فلا، كذا في منية المصلي، وهكذا في شرح الطحاوي. وحد الحضرة أن يكون بحيث لو صاح به سمعه، كذا في الجوهرة النيرة.ولو اشتبهت القبلة في المفازة فوقع اجتهاده إلى جهة فأخبره عدلان أن القبلة إلى جهة أخرى فإن كانا مسافرين لا يلتفت إلى قولهما أما إذا كانا من أهل ذلك الموضع لايجوز له إلا أن يأخذ بقولهما، كذا في الخلاصة. فإن تحرى وصلى إلى غير جهة التحري يعيدها وإن أصاب القبلة، كذا في منية المصلي.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،الباب الثالث في شروط الصلاة،الفصل الثالث في استقبال القبلة،ج:1،،ص:64)