بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

علماءکو برا بھلا کہنا


سوال

ایک شخص علماء دین کو دین فروش کہتا ہےاور کہتا ہے کہ یہ علم دین پڑھا کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، مدارس کو گمراہی کےاڈے کہتا ہے، یہ ساری باتیں اس شخص کی عادت بن چکی ہے،تو اس شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ علماء انبیاء کرام کے ورثا اورحاملین دین ہوتے ہیں، لہذا ان کو اس وجہ سے برا بھلا کہنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کے عالم ہیں، حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے دشمنی اورعداوت کے مترادف ہے، اس لیے فقہائے کرام نے اس کو کفر قرار دیا ہے، لیکن اگرکوئی شخص کسی عالم دین سے دین کی بنیاد پرنہیں، بلکہ ذاتی رنجش کی بنیاد پرناراض ہواوراس کو برا بھلا کہتا ہو، تو یہ فعل باعث فسق و فجور ہے، لیکن کفرنہیں۔

 

‌فالاستخفاف ‌بالعلماء لكونهم علماء استخفاف بالعلم.....والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر. (مجمع الأنهر شرح ملتقى الأبحر، باب المرتد، ج:1، ص:690)

من أبغض عالماًبغيرسبب ظاهر خيف عليه الكفر. (شرح فقه الأكبر، ص:470)


فتویٰ نمبر : 6398/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور