بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
نابالغ بچوں کو زکوٰۃ دینا
سوال
ہمارے مدرسہ میں ایک صاحب مال آئے تھے، جوہرطالب علم کو زکوۃ کی رقم اپنے ہاتھ سے دے رہے تھے، ان طلبہ میں حفظ وناظرہ کے بچے بھی تھے جن کو زکوۃ کی رقم دی گئی، اب سوال یہ ہے کہ کیا نابالغ بچے کو زکوۃ دینا جائز ہےیا نہیں؟
جواب
شرعی نقطہ نظرسے زکوۃ کی تملیک کے لیے بلوغ شرط نہیں، لہذا زکوۃ جس طرح بالغ کو دی جاسکتی ہے، اس طرح ایسا نابالغ بچہ جو سمجھ دارہواورمال کی پہچان رکھتاہواوراس کا باپ زکوۃ کا مستحق ہو، توایسے نابالغ بچے کوزکوۃ دی سکتی ہے، لیکن اگرنا بالغ بچے کا باپ مالدارہو، تواس کو زکوۃ دینا جائزنہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس نے اپنے ہاتھ سے ہر طالب علم کو زکوۃ کی رقم دی ہواور ان طلبہ میں حفظ وناظرہ کے نابالغ بچے بھی تھے، تو اگر نابالغ بچے کا باپ مالدار ہوتو اس کو زکوۃ دینا جائز نہیں اور اگر باپ زکوۃ کا مستحق ہو اور بچہ سمجھ دارہوتو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے۔
ولم يشترط البلوغ والعقل؛ لأنهما ليس بشرط؛ لأن تمليك الصبي صحيح لكن إن لم يكن عاقلا، فإنه يقبض عنه وصيه أو أبوه أو من يعوله قريبا أو أجنبيا أو الملتقط كما في الولوالجية. (البحر الرائق، كتاب الزكوة، ج:2، ص:217)
(قوله: ولا إلى طفله) أي الغني فيصرف إلى البالغ ولو ذكرا صحيحا قهستاني، فأفاد أن المراد بالطفل غير البالغ ذكرا كان أو أنثى في عيال أبيه أولا على الأصح لما عنده أنه يعد غنيا بغناه نهر. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكوة، باب مصرف الزكوة والعشر، ج:2، ص:349)