بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ميت کی طرف سے زکوۃ ادا کرنا


سوال

فوت شدہ کی زکوۃ باقی ہو تو کیا اس کے مرنے کے بعد ادا کی جا سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر میت نے زکوة کی ادائیگی کی وصیت کی تھی ، تو اس کے متروکہ مال کے ایک تہائی سے زکوة ادا کرنا ورثاء پر شرعا لازم ہے، اور اگر میت نے وصیت نہیں کی تھی، تو اس صورت میں اس کے مال کی زکوة ادا کرنا ضروری نہیں ، البتہ اگر کوئی عاقل بالغ وارث اپنی رضامندی سے اپنے حصے سے بطور احسان اور تبرع مرحوم کے ذمے لازم زکوة ادا کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، امید ہے کہ مرحوم کو اس سے آخرت کی باز پرس سے نجات حاصل ہوجائے گی۔

 

في الجوهرة: إذا مات من عليه زكاة أو فطرة أو كفارة أو نذر لم تؤخذ من تركته عندنا إلا أن يتبرع ورثته بذلك وهم من أهل التبرع ولم يجيزوا عليه وإن أوصى تنفذ من الثلث.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الذكوة،باب صدقة الفطر،ج:2،ص:359)


فتویٰ نمبر : 10671/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور