بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
فرض نماز کی دوسری رکعت کو پہلی رکعت سے طویل ادا کرنا
سوال
اگر کوئی شخص فرض نماز کی دوسری رکعت کو پہلی رکعت سے زیادہ لمبا کرے ،تو کیا اس سے نماز کی صحت پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ فرض نماز کی دوسری رکعت میں پہلی رکعت کی قرأت کی بہ نسبت اتنی زیادہ تلاوت کرنا کہ اس کی طوالت واضح ہوشرعا مکروہِ تنزیہی کے زمرے میں داخل ہے فقہاءِ کرام نے اس کی مقدار تین آیات یا اس سے زیادہ آیات لکھی ہے،یعنی فرض نماز کی دوسری رکعت میں پہلی رکعت کی بہ نسبت تین یا اس سے زیادہ آیات تلاوت کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔
(وإطالة الثانية على الأولى يكره) تنزيهاً (إجماعاً إن بثلاث آيات) إن تقاربت طولاً وقصراً، وإلا اعتبر الحروف والكلمات. واعتبر الحلبي فحش الطول لا عدد الآيات، واستثنى في البحر ما وردت به السنة، واستظهر في النفل عدم الكراهة مطلقاً (وإن بأقل لا) يكره، «لأنه عليه الصلاة والسلام صلى بالمعوذتين. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،فصل في القراءة،ج:1،ص:542)