بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
داڑھی کے بال واش روم میں گرنا
سوال
اگر داڑھی کے بال غسل کرتے وقت واش روم میں گر کر نالی میں جائیں تو اس کیا حکم ہے؟ جب کہ خود غیر اختیاری طور پر گرتے ہوں۔
جواب
واضح رہے کہ داڑھی سے گرنے والے بالوں کو کسی پاک جگہ دفن کردینا چاہیے، کیونکہ بال انسان کے جسم کا حصہ ہیں اور انسانی اعضاء قابل احترام ہیں، البتہ اگر بال دفن کیے بغیر کسی پاک جگہ ڈال دیے جائیں، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، لیکن گندگی اور ناپاکی کی جگہ میں قصدا ڈالنا مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں غسل کے دوران غیر اختیاری طور پرداڑھی کے جو بال واش روم میں گرجائیں یہ معاف ہے، البتہ جہاں آسانی اور سہولت ہو تو داڑھی یا سر وغیرہ کے بالوں کو احترام سے زمین میں دفنادیا جائے یا کسی ایسی جگہ ڈال دیا جائے جہاں گندگی نہ ہو۔
فإذا قلم أطفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوی الهندية،کتاب الکراهية، الباب التاسع عشر في الحتان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها،ج:5،ص:358)