بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

امام کے سجدہ سہو کے وقت مسبوق کا سلام پھیرنا


سوال

اگر ایک شخص جماعت کی نماز میں امام کے ساتھ  دوسری یا تیسری رکعت میں شریک ہوجائے اور امام پر سجدۂ سہو واجب ہو، تو جب امام سجدۂ سہو کے لئے سلام پھیرے گا تو کیا مسبوق بھی سلام پھیرے گا یا نہیں؟ اگر سلام پھیر لیا تو کیا اس کی نماز ٹوٹ جائے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مسبوق امام کے ساتھ سجدہ سہو کرتے وقت سلام نہ پھیرے، بلکہ بغیر سلام کے سجدہ سہو کرے۔ کیونکہ سلام کے ساتھ تو نمازی نماز سے نکل جاتا ہے اور مسبوق کی نماز تو باقی ہے۔ اگر مسبوق نے سلام پھیرا اور اسے اپنا مسبوق ہونا یاد ہو، یعنی یہ یاد ہو کہ اس کے ذمہ نماز کا کچھ حصہ باقی ہے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، تاہم اگر بھول کر سلام پھیرا ہو، یعنی اسے اپنا مسبوق ہونا یاد نہ ہو اور سلام پھیرا تو نماز فاسد نہ ہوگی۔

 

(والمسبوق يسجد مع إمامه مطلقا) سواء كان السهو قبل الإقتداء أو بعده.

(قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه منفردا حينئذ بحر، وأراد بالمعية المقارنة وهو نادر الوقوع كما في شرح المنية. وفيه: ولو سلم على ظن أن عليه أن يسلم فهو سلام عمد يمنع البناء۔ (رد المحتار على الدرالمختار، باب سجود السهو، ج:2، ص:82)

ولا ‌يشترط ‌أن ‌يكون ‌مقتديا به وقت السهو حتى لو أدرك الإمام بعد ما سها يلزمه أن يسجد مع الإمام تبعا لہ۔ (الفتاوی الھندیۃ، كتاب الصلاة، فصل سهو الإمام يوجب عليه وعلى من خلفه السجود، ج:1،ص:128)


فتویٰ نمبر : 10649/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور