بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

خود کو ہندویا عیسائی کہنایا کاروبارکے سلسلے میں غیرمسلم ظاہرکرنا


سوال

اگرکسی شخص نے یہ بات کہی کہ میں ہندو یا عیسائی  ہوں یا کاروبار کے سلسلہ میں ہندو یا عیسائی نام ظاہر کیا لیکن اس کو یہ علم نہیں  کہ ان کفریہ کلمات کو  کہنے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے، توکیا مذکورہ شخص کافر ہوجائے گا یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے کلمہ کفر کہتے وقت یا کافرمذہب کی طرف اپنی نسبت کرتے وقت اگرکفر کا عقیدہ بھی ہو توایسی صورت میں ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، لیکن اگر کفر کا عقیدہ نہ ہو بلکہ کسی دنیوی مفاد کی خاطرکسی اور مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے اور کفریہ اعتقاد نہ ہو، تواگرچہ یہ بڑی جرأت اورعظیم گناہ ہےاوراس سےاس شخص کے ایمان کوخطرہ لاحق ہوتا ہے، کیونکہ ایسا شخص آگے جاکردنیوی مفاد کی خاطرایمان سے ہاتھ دھوسکتا ہے، تاہم کفریہ عقیدہ نہ ہونےکی صورت میں وہ کافرنہیں ہوتا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے آپ کو ہندو یا عیسائی کہے یا  کاروبارکے سلسلےمیں اپنےآپ کو”غیرمسلم “ ظاہر کرے اورعقیدہ میں بھی اسلام سے انحراف ہو،تواس سے وہ کافر ہوجائےگا، لیکن اگراس کاعقیدہ کفرکا نہ ہو، بلکہ صرف دنیوی مفاد کی خاطراس طرح کرے توایسے شخص کو کافر نہیں کہا جاسکتا، تاہم اس عمل پرسچے دل سے توبہ واستغفارلازم ہےاورکسی کو ایسا دھوکہ دینا حرام ہے ۔

 

ومن أتی بلفظة الكفرمع علمه أنها لفظة الكفرعن اعتقاده فقد كفر، ولولم يعتقد أولم يعلم أنهالفظة الكفر، ولكن أتی بها علی اختيارفقد كفرعند عامة العلماء لا يعذر بالجهل، وفی الخانية: وقال بعضهم: الجاهل إذا تكلم بكفر ولم يدرأنه كفرلايكون كفراً ويعذربالجهل، وفی الينابيع: قال أبوحنيفة ؓ:لا يكون الكفرکفراًحتی يعقد عليه القلب. (الفتاوی التتارخانية، كتاب أحكام المرتدين، الفصل إجراء كلمة الكفر، ج:7، ص:282)


فتویٰ نمبر : 6375/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور