بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رضویہ نام رکھنا


سوال

رضویہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے کی زندگی پر نام کا اثر  ہوتا ہے،اس لیے اچھے معنی والا  نام رکھنا چاہیے، تا کہ اس کا  اچھا اثر بچے کی زندگی پررہے،نیز حضورﷺ،صحابہ کرامؓ یا علما اورصلحاے اُمت نے جو نام پسند کیے ہیں وہ نام رکھنا زیادہ بہتر ہے،البتہ اگر کسی مقدس ہستی کانام رکھنے میں اس کا خدشہ ہو کہ اس کو تحقیر وتصغیر کے ساتھ استعمال کیا جائے گا،تو نام کی توہین  سے بچنے کے لیے اس سے گریز کرنا چاہیے۔

صورت مسؤلہ میں رضویہ نام میں  حضرت علی رضا ؒ کی طرف نسبت ہے۔حضرت علی رضاؒ ، سیدنا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے ،ان کی اولاد ان کی طرف نسبت کرتے ہوئے ’’رضو ی‘‘کہلاتے ہیں ۔لہذا اگر کوئی ان کی اولاد میں آتا ہواور اس کایہ نام رکھا جائے تودرست ہے ،ورنہ اس نام سے احتراز کرنا چاہئے تا کہ والد کے علاوہ  کسی اور کی طرف نسبت کرنے کاگناہ لازم نہ ہو۔

 

بفتح الراء والضاد وفي آخرها الواو، هذه النسبة إلى الرضا وهو لقب على بن موسى بن جعفر بن محمد بن على بن الحسين ابن على بن أبى طالب أبى الحسن المعروف بالرضا المدفون بطوس، يروى صحيفة عن آبائه وجماعة من أولاده نسبوا إليه، يقال لكل واحد منهم الرضوى۔(الأنساب للسمعاني،ج:6،ص:41، رقم:1794،الرضوي)


فتویٰ نمبر : 6403/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور