بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
امام کا دوران نماز موبائل سے فتح لینا
سوال
ایک امام دوران جماعت قرات کو بھول گئے تواس نے موبائل نکال کر کسی قاری کی تلاوت کی ریکارڈنگ لگا کر قرات سن لی اور پھر آگے قراءت کو جاری رکھا ،امام کا اس طرح سے لقمہ لینا جائزہے یا نہیں ؟اورامام اور مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے ان پر نماز کا اعادہ ہے یا نہیں؟
جواب
فقہاء کرام نے امام کے لیےمقتدی کےعلاوہ کسی دوسرے سے فتح لینے کو مفسد صلاۃ قراردیا ہے۔اسی طرح کسی نمازی کا دوران نمازایسا عمل انجام دینا جس کی وجہ سے دیکھنے والا اس کونمازی نہ سمجھے تویہ عمل کثیرکہلاتاہے جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطا بق اگرواقعی امام نے دوران نماز موبائل کھول کرکسی قاری کی ریکارڈنگ لگا کراس سے فتح لی ہو تواس سے امام کی نماز فاسدہوئی ہے ۔ دوران نماز موبائل نکال کر کسی قاری کی تلاوت کی ریکارڈنگ لگاکر قرات سننا عمل کثیر ہے جس سے نماز فاسد ہوتی ہے لہذا امام اور مقتدیوں پرا س نماز کا اعادہ لازم ہے ۔
أخذ المصلي غير الإمام بفتح من فتح عليه مفسد أيضا كما في البحر عن الخلاصة. أو أخذ الإمام بفتح من ليس في صلاته كما فيه عن القنية....ولو سمعه المؤتم ممن ليس في الصلاة ففتح به على إمامه يجب أن تبطل صلاة الكل لأن التلقين من خارج.( رد المحتار على الدر الدرالمختار،ج:1،ص:622)
و إن فتح غير المصلي فأخذ بفتحه تفسد.كذا في منية المصلي.(الفتاوى الهندية،ج:1ص:99)
وهذا مبني على أحد تفسيري العمل الكثير اهـ وهو ما لو رآه راء من بعيد لا يشك أنه ليس في الصلاة.(رد المحتارعلى الدر المختار،ج:1،ص:605)
لأن المفسد إنما هو العمل الكثير وهوما يظن أن فاعله ليس في الصلاة.(رد المحتار على الدرالمختار،ج:1،ص:625)