بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عید گاہ کی چھت پر اسکول بنانا


سوال

ہمارے گاؤں میں ایک عید گاہ ہے جس کو ایک شخص نے وقف کیاتھا،بعد میں ضرورت پڑنے پر گاؤں والوں نےچندہ کرکے مزید زمین خرید لی ۔اب حکومت کی طرف سے گاؤں میں لڑکیوں کے لیے اسکول کی منظوری ہوئی ہےاور اس کے لیے عیدگاہ کی چھت کے اوپر اسکول بنانے کی تجویز پیش کر رہے ہیں ،کیا شریعت کی رو سے اس کا جواز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ واقف نےزمین کو جس مقصد کے لیے وقف کیا ہو،  اسی مقصد میں استعمال شرعاً لازم ہے۔ لہٰذا وقف شدہ جگہ کو اس کے اصل مقصد کے خلاف کسی اور استعمال میں لاناشرعاً ناجائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق وقف شدہ عید گاہ کے اوپر اسکول بنانا از روئے شریعت جائز نہیں۔

 

‌البقعة ‌الموقوفة ‌على ‌جهة ‌إذا ‌بنى ‌رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية. (الفتاوى الهندية،كتاب الوقف، الباب الثاني فيما يجوز وقفه وما لا يجوز وفي وقف المشاع،ج:2،ص:362)

ولا ‌يجوز ‌تغيير ‌الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف، كذا في السراج الوهاج.(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،الباب الرابع عشر في المتفرقات،ج:2،ص:490)

‌أنهم ‌صرحوا ‌بأن ‌مراعاة غرض الواقفين واجبة.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الوقف،ج:6،ص:665)


فتویٰ نمبر : 6368/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور