بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
اجارہ میں نقصان اٹھانے والے پر عشر کا وجوب
سوال
مسئلہ یہ هے کہ ایک بندہ نے اجارہ پر زمین لی ہے اب اسکو نقصان اتنا آیا ہے کہ اس نے پچھلے سال بھی جو اجارہ تھا وہ نہیں دے سکا اور اس سال کا بھی نہیں دے پارہا یعنی کہ اسکو نقصان ہی نقصان آرہا ہے خرچہ بھی نہیں نکل رہا اور اجارہ بھی نہیں اتار سکتا اب کیا اس پر عشر واجب ہےیا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ زمین سے حاصل ہونے والا پیداوار چاہے کم ہو یا زیادہ ہو اس میں عشر يانصف عشر واجب ہوتاہے ،عشر واجب ہونے كے بعد جب تک كاشتكار نے اس كوادا نہ كيا ہو اس كاذمہ فارغ نہیں ہوتا کیونکہ مالی عبادات کی جب تک ادائیگی نہ ہو ئی ہو وہ اس شخص کے ذمہ بدستور باقی رہتے ہیں ، نيز اخراجات كی زيادتي كي وجہ سےعشركا وجوب ساقط نہیں ہوتا۔
لہذا صورت مسئولہ میں نقصان اٹھانے کی وجہ سےاس شخص کے ذمے سے عشر ساقط نہیں ہو تا ،کیونکہ عشر بہر حال واجب ہوتا ہے نقصان کےساتھ عشرکےوجوب کا کوئی تعلق نہیں۔
وسبب وجوب العشر الخارج حتى لا يجب بدونه ۔۔۔۔قول النبي صلى الله عليه وسلم «ما سقته السماء ففيه العشر وما سقي بغرب، أو دالية ففيه نصف العشر ولأن العشر مؤنة الأرض كالخراج، (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب الزكوة،فصل فی ا لشرائط ألأهلية،ج:2، ص56)
ويجب العشر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز، وأصناف الحبوب والبقول والرياحين والأوراد والرطاب وقصب السكر والذريرة والبطيخ والقثاء والخيار والباذنجان والعصفر، وأشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقية قل أو كثر،(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب السادس في ذكوة الزرع والثمار،ج1،ص:186)