بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
میاں بیوی کےمشترکہ پیسوں سے سونے کی زکوۃ کی ادائیگی
سوال
میاں بیوی دونوں ملازمت کرتے ہیں، اور ہر ایک کے ذاتی اکاؤنٹس اور اثاثے ہیں، مگر سوناجو کہ دونوں کی ملکیت ہے ایک ہی لاکر میں رکھا ہوا ہے۔ کیا ان دونوں پرزکاۃ الگ الگ واجب ہے یا مشترکہ مال پر اکٹھے حساب سے زکاۃ دی جائے گی؟
جواب
واضح رہے کہ زکوۃ ہر مسلمان ،عاقل ،بالغ ، پرفرض ہے جب صاحب نصاب ہواور نصاب پر سال گزر گيا ہو،مياں بيوی اگر دونوں صاحب نصاب ہوں تو دونوں پرالگ الگ زکوۃ فرض ہوگی ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر سونامیاں بیوی کی مشترکہ ملکیت ہو اور اس میں دونوں کا حصہ متعین ہو،تودونوں میں سے ہر ایک کا حصہ اس کےدوسرے اثاثوں کے ساتھ ملا کر اگرنصاب کو پہنچتا ہو، تو ہر ایک پراپنے حصے کے مطابق الگ الگ زکوۃ واجب ہوگی، اگرچہ مشترکہ سونا ایک ہی لاکر میں پڑا ہوا ہو، نیز اگر شوہر اپنی مرضی سے بیوی کی طرف سے زکوۃ ادا کرنا چاہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ليكن اس ميں بيوی كي اجازت ضروری ہے۔
الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول.(الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الزكوة، ج:1،ص:95)
لو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز لأنها وجدت نفاذا على المتصدق لأنها ملكه۔( رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،مطلب في زكوة ثمن البيع،ج:2،ص: 269)