بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
اكيلے نماز پڑھنے کے بعد جماعت میں شریک ہونا
سوال
میں مسلک اہلسنت والجماعت کا ماننے والا ہوں میں جس جگہ کام کرتا ہوں وہاں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے تو پاس میں جو مسجد ہے وہ دوسرے مسلك والوں کی ہے تو میں اس مسجد میں جاکر پہلے سنت ادا کرتا ہوں اور پھر فرض ادا کرتا ہوں اور اسکے بعد جب جماعت کھڑی ہوتی ہے تو جماعت کے ساتھ مل کر صرف نماز کی نقل کرتا ہوں ان کے ساتھ جماعت میں نماز نہیں پڑھتا ، تو میرا اس طریقے سے نماز ادا کرنا کیسا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ صحیح العقیدہ اور با عمل عالم وقاری کے پیچھے نماز پڑھنا افضل ہےلیکن اگر کسی جگہ پر دوسرے فرقے والے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا موقع آجائےتواگر امام ایسا ہو کہ نماز میں دوسرے مسلک کی واجبات وغیرہ کی رعایت رکھتا ہوتو ایسے امام کی اقتدا میں کوئی حرج نہیں ۔
صورت مسؤلہ میں سائل کو چاہیے کہ حتی الوسع اپنے مسلک کےمطابق صحیح العقیدہ امام کے پیچھے نماز پڑھے لیکن اگر کبھی کبھار اپنے مسلک کے علاوہ دوسرے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی نوبت آئے توصرف مسلکی اختلاف کی وجہ سے جماعت ترک کرنا مناسب نہیں،بلکہ اگردوسرے مسلک کا امام باشرع ہواور واجبات وغیرہ کا خیال رکھے تو اس کےپیچھے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے ۔
قال المرغيناني تجوز الصلاة خلف صاحب هوى وبدعة ولا تجوز خلف الرافضي والجهمي والقدري والمشبهة ومن يقول بخلق القرآن وحاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة وإلا فلا.۔۔۔ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي.(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلوۃ،الباب الخامس في الإمامة، الفصل الثالث،ج :1،ص :84)