بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جنازہ گاہ کے لیے وقف شد ہ زمین کو بیچنا


سوال

ایک شخص نے جنازہ گاہ کے لیے زمین وقف کر دی تھی اور اب واقف اور اس کے بچوں کا انتقال ہو گیا ہے، اس کے پوتے زندہ ہیں اور گاؤں والے اس جنازہ گاہ کو بیچنا چاہتے ہیں اور ان پیسوں پر دوسری جگہ جنازہ گاہ کے لیے زمین خرید نا چاہتے ہیں جب کہ واقف کے پوتے منع کرتے ہیں، تو شرعا اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی زمین مسجد یا جنازہ گاہ کے لیے وقف کی جائے، تو   وقف تام ہونے کے بعد موقوفہ جائیداد میں واقف یا کسی اور شخص کو مصرف وقف کے علاوہ کسی تصرف کا حق حاصل نہیں ہے، کیونکہ موقوفہ چیز  واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور اس پرکسی دوسرے کی ملکیت  ثابت نہیں ہوتی ، اس لیے کسی کے لیے اس میں مالکانہ تصرف بیع و شرا ،ھبہ، عاریت وغیر ہ  جائز نہیں ہے،البتہ دو صورتوں میں موقوفہ جائید اد کو فروخت کرنا جائز اور درست ہے۔

1:واقف نے بوقت وقف اپنے لیے یا کسی اور کے لیے تبدیل کرنے کی شرط لگائی ہو۔

2:موقوفہ جائید اد بالکل نا قابل انتفاع ہو جائے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر مندرجہ بالا شرائط موجود نہ ہوں تو اہل علاقہ کے لیے جنازہ گاہ کے لیے وقف شد ہ زمین کا بیچنا اور کسی خرید ارکے لیے خریدنا جائز نہیں خصوصا جب کہ واقف کے پوتےبھی منع کرتے ہوں، اور جنازہ گاہ میں وسعت بھی ہو ،اور اہل علاقہ کے معمول کی نماز جنازہ کی ضرورت بھی اس سے پوری ہوتی ہو، تو پھر بلا وجہ وقف شد ہ جنازہ گاہ کو بیچنا ،اور اس کی جگہ دوسری جگہ خرید ناکسی بھی صورت میں جائز نہیں ۔

 

عن ابن عمر رضي الله عنهما:أن عمر بن الخطاب ‌أصاب ‌أرضا ‌بخيبر، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم يستأمره فيها، فقال: يا رسول الله، إني أصبت أرضا بخيبر، لم أصب مالا قط أنفس عندي منه، فما تأمر به؟ قال: "إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها". قال: فتصدق بها عمر: أنه لا يباع ولا يوهب ولا يورث، وتصدق بها في الفقراء، وفي القربى، وفي الرقاب، وفي سبيل الله، وابن السبيل، والضيف، لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف، ويطعم غير متمول.( الصحيح للبخاري،كتاب الشروط، باب: الشروط في الوقف، ج:2، ص:982 )

قال:وإذا صح الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه.( الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الوقف، ‌‌شروط الوقف، ج:3، ص:18 )

(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن) (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه.( رد المحتار، كتاب الوقف، مطلب في وقف المرتد والكافر، ج:4، ص:352 )

اعلم أن ‌الاستبدال ‌على ‌ثلاثة ‌وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار.( رد المحتار،كتاب الوقف، مطلب في استبدال الوقف وشروطه، ج:4، ص:384 )


فتویٰ نمبر : 6371/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور