بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پھل پکنے سے پہلے بیچنے کی صورت میں عشر کا حکم


سوال

ہمارے سیب کے باغات ہیں پکنے سے پہلے ہم نے ٹھیکدارپرفروخت کردیے، لہذا اب عشرکس پرواجب ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فصل یا پھل کے عشراورنصفِ عشرکا بائع یا مشتری میں سے کسی پرواجب ہونے میں اصل اعتبارادراک یعنی "پختگی"کا ہے کہ جس کے قبضہ میں فصل پک جائے یا پھل پختہ ہوجائے اسی پرعشریا نصفِ عشرلازم ہوگا، لہذا اگرفصل اورپھل کوپکنے اورپختہ ہونے کے بعد فروخت کیا گیا توعشریا نصفِ عشربائع پرواجب ہوگا اوراگر پکنے اورپختہ ہونے سے پہلے فروخت کیا گیا تواس صورت میں اگربیع مطلق ہوجس میں پھل پکنے تک درختوں پرچھوڑنے کی شرط نہ لگائی ہواورخریدارپکنے سے پہلے پھل کاٹے تواس صورت ميں عشربائع پرہے اوراگرپکنے کے بعد کاٹےتواس صورت میں عشرمشتری پرواجب ہوگا۔

صورت مسئولہ میں اگرواقعی سائل نے سیب کے باغات پکنے سے پہلے فروخت کردیے ہوں تواگرمشتری پکنے سے پہلے کاٹ دے توعشریا نصفِ عشرسائل پرواجب ہوگا، اوراگرمشتری اس کوپختہ ہونے تک درختوں پر چھوڑدے تواس صورت میں عشرمشتری پرواجب ہوگا۔

 

 (ومن باع ثمرةً بارزةً) أما قبل الظهور فلايصح اتفاقًا. (ظهر صلاحها أو لا صح) في الأصح. (قوله: أما قبل الظهور) أشار إلى أن البروز بمعنى الظهور،والمراد به انفراد الزهر عنها وانعقادها ثمرة وإن صغر ۔ (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب البيوع، مطلب فى بيع الثمر والزرع، ج:4، ص:554/555)

وأما وقته ‌فوقت ‌خروج ‌الزرع وظهور الثمر عند أبي حنيفة۔ (البحرالرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الزكاة، باب العشر،ج:2، ص:255)

وإذا باع الأرض العشرية وفيها زرع قد أدرك مع زرعها أو باع الزرع خاصة فعشره على البائع دون المشتري ولو باعها والزرع بقل إن فصله المشتري في الحال يجب على البائع ولو تركه حتى أدرك فعشره على المشتري۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، الباب السادس في زكوة الزروع والثمار، ج:1، ص:249)

ولو باع الزرع إن قبل إدراکہ فالعشرعلی المشتری ولو بعدہ فعلی البائع۔ (ردالمحتار على الدرالمختار،‌‌ كتاب الزكاة، ‌‌باب العشر، فروع في زكاة العشر،ج:2، ص:333 )


فتویٰ نمبر : 10674/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور