بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
غیر آباد مدرسہ کی زمین کا استبدال
سوال
ہمیں دو کنال وقف زمین مدرسہ کے لیے ملی مدرسہ کی جزوی تعمیر کے بعد کچھ عرصہ اس میں تعلیم بھی جاری رہی لیکن بعد میں طلباء کے داخلے نہ ہونے اور مالی مسائل کی وجہ سے مدرسہ میں تعلیمی سرگرمیاں موقوف کرنی پڑيں اور مدرسہ آبادی سے دور ہے اور آس پاس آبادی کی کوئی خاص صورت نظر نہیں آتی اس وجہ سے مدرسہ کو عارضی طور پر شہر منتقل كيااور اب اس وقف مدرسہ کو دوبارہ شروع کرنا ممکن نظر نہیں آرہا ،آبادی نہ ہونے کی وجہ سے مدرسہ کے منتظمین کا ارادہےکہ اس وقف مدرسہ کو بیچ کر یا بدل میں دے کر شہر کے اندر مدرسہ کے لیے جگہ لے لی جائے اور مدرسہ کے واقفین بھی اس پر راضی ہیں تو کیا اس طرح کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ وقف تام ہونے کے بعد وقف شدہ زمین سے جب تک فائدہ اٹھانا ممکن ہوتو کسی دوسری زمین سےاس کا استبدال جائز نہیں اور وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو، اس میں کم ازکم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے، چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین کاوقف اس وقت تام متصور ہوگا، جب اس میں تعلیمی سلسلہ شروع ہوجائے۔
صورت مسئولہ میں جس زمین کو مدرسے کے لیے وقف کیا گیا ہے اور وہاں ایک مرتبہ تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوکرپھر منقطع ہوچکی ہیں، تواب اگرواقف نے وقف کے وقت زمین کے تبادلےکی کوئی شرط نہیں رکھی تھی، توجب تک اس جگہ سے تعلیمی مصرف میں کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل کرنا ممکن ہو، تو شرعاً اس موقوفہ زمین کوفروخت کرنا یا کسی دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں، البتہ اگرواقف نے وقف کرتے وقت زمین کے تبادلے کی شرط رکھی تھی، تواس کی اجازت سےزمین کو فروخت کرنا یا کسی دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے۔
والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الوقف، ج:4، ص:384)
(قوله: بمنع استبداله) أي استبدال العامر إذا قل ريعه ولم يخرج عن الانتفاع بالكلية وهو الصورة الرابعة بقرينة قوله تبعا لترجيح صدر الشريعة فإن الذي رجحه هو هذه الصورة. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الوقف، ج:4، ص:388)