بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نماز میں مسنون قرأت كی مقدار


سوال

نمازِ پنجگانہ میں قرأت کے متعلق احادیث و آثار میں جو وارد ہے کہ فجر اور ظہر کی نماز میں طوالِ مفصل، عصر اور عشاء میں اوساطِ مفصل، اور مغرب میں قصارِ مفصل کی قرأت سنت ہے،ان تقسیمات  سے مراد صرف مقدارِ قرأت ہے، یا ان سورتوں کی تحدیدِ مراد ہے؟ ہفتہ دو ہفتہ میں ایک مرتبہ مفصلات کے بجائے کہیں اور سے مذکورہ مقدار کا خیال رکھ کر پڑھ لیا جائے تو نماز مسنون ہوگی یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز میں فرض قرأت کی مقدار تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت  ہے،البتہ سنت اور مستحب قرأت کے بارے میں احادیث اور آثار مختلف ہیں ، بعض روایات میں قرأت کی تعیین تعدادِ آیات سے ہوئی ہے ،جیسے فجر میں ساٹھ سے سو تک کی آیتیں پڑھنا اور بعض روایات  میں سورتوں کی تقسیم کے اعتبار سے ہوئی ہے،جیسے فجر میں طوال مفصل یعنی سورۃ الحجرات سے لے کر سورۃ البروج  تک سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھنا،چنانچہ فقہاء کرام نے احادیث اور آثار میں وارد خاص مقدار کی قرأت کو سنت اور مفصلات میں سے خاص مقدار کے پڑھنے کو مستحسن قرار دیا ہیں ۔

لہذا ان  تقسیمات سے مراد  قرأت کی خاص   مقدار کے ساتھ ساتھ سورتوں کی تحدید بھی ہے،یعنی اگر کوئی آدمی مفصلات میں سے خاص مقدار کی قرأت کرے ،جیسےفجر کی نماز میں  ساٹھ آیتیں طوال مفصل كے کسی ایک سورت میں سے پڑھے،تو دونو ں قسم کی روایات پر عمل کرنے کی وجہ سے اولیٰ اور بہتر  ہوگااور اگر خاص مقدار کی قرأت مفصلات کے علاوہ باقی قرآن مجید میں سے کسی جگہ سے کر لے ،تو بھی سنت پر عمل ہو جائے گا اور نماز مسنون شمار ہوگی۔

 

عن أبي برزة الأسلمي قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في الفجر ما بين الستين إلى المائة آية.(صحيح مسلم، باب القراءة في الصبح، رقم الحديث:461، ج:2، ص:40)

عن الثوري، عن علي بن زيد بن جدعان، عن الحسن وغيره قال: كتب عمر إلى أبي موسى: أن اقرأ في المغرب بقصار المفصل، وفي العشاء بوسط المفصل، وفي الصبح بطوال المفصل. (مصنف عبد الرزاق، باب ما يقرء في الصلوة، رقم الحديث:2672، ج:2، ص:104)

وأقول: القراءة من المفصل سنة والمقدار الخاص منه أخرى وقد أمكن مراعاة الأولى فأي مانع من الإتيان بهما. (النهر الفائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصلوة، ج:1، ص:232)

وسنتها في الحضر أن يقرأ في الفجر في الركعتين بأربعين أو خمسين آية سوى فاتحة الكتاب وفي الظهر ذكر في الجامع الصغير مثل الفجر وذكر في الأصل أو دونه وفي العصر والعشاء في الركعتين عشرين آية سوى فاتحة الكتاب وفي المغرب يقرأ في كل ركعة سورۃ قصيرة.هكذا في المحيط واستحسنوا في الحضر‌طوال‌المفصل في الفجر والظهر وأوساطه في العصر والعشاء وقصاره في المغرب. (الفتاوى الهندية، کتاب الصلوۃ، ج:1، ص:77)


فتویٰ نمبر : 10819/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور