بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
دماغی بیماری کی صورت میں منگنی توڑنا
سوال
ایک بندے نے اپنے لئے رشتہ کیا ہے اورمنگنی بھی کیا ہے ابھی وہ لڑکی بیمار ہے کہ اس کی دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے ابھی وہ لڑکا نکاح نہیں کرنا چاہتا ،کیا وہ اس منگنی کوتوڑ سکتا ہے یانہیں ؟
جواب
واضح رہےکہ منگنی نکاح کا وعدہ ہوتا ہے، جس کو پورا کرنا دیانۃ ً ضروری ہوتا ہے،البتہ اگر کوئی معقول عذر ہو تو مناسب طریقے سے منگنی توڑی جا سکتی ہے۔
لہذا صورت مسؤلہ میں اگر واقعی لڑکی کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہوتولڑکےکومناسب طریقےسے منگنی توڑنے کی گنجائش ہے۔
وعن زيد بن أرقم - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: " «إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي له، فلم يف ولم يجئ للميعاد، فلا إثم عليه» " رواه أبو داود، والترمذي. «عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي» ) : بفتح فكسر وأصله أن يوفي (له) أي: للرجل (فلم يف) أي: بعذر (ولم يجئ للميعاد) أي: لمانع (فلا إثم عليه) (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الآداب،باب الوعد،ج:7،ص:3059،رقم الحديث:4881)