بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طواف زیارت میں رمل اور سعی کرنا


سوال

حج کے طوافِ زیارت میں رمل کریں گے یا نہیں جب کہ عموماً احرام اتار لیا جاتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ حج کے واجبات میں سے ایک سعی بین الصفا والمروہ ہے۔ اگر کوئی شخص حج کے طواف قدوم کے ساتھ سعی کرے، تو دوبارہ طواف زیارت کے بعد سعی کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر کسی نے طواف قدوم کے ساتھ سعی نہیں کی، تو وہ طواف زیارت کے بعد سعی کرے گا، نیز رمل ہر اس طواف میں کیا جاتا ہے جس کے بعد سعی ہو۔ اور جس طواف کے بعد سعی کا ارادہ نہ ہو اس میں رمل بھی نہیں۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر کسی نے طواف قدوم کے بعد سعی کی ہو تو طواف زیارت میں اس پر نہ رمل ہے اور نہ سعی، اور اگر طواف قدوم کرکے بعد سعی نہ کی ہو تو پھر طواف زیارت میں رمل کرے گا۔

 

(وأما واجباته فخمسة) السعي بين الصفا والمروة والوقوف بمزدلفة، ۔۔۔ وهذا الطواف يسمى طواف الزيارة وطواف الركن وطواف يوم النحر۔۔۔ ويقال له طواف الواجب،۔۔۔ فإن كان سعى بين الصفا والمروة عقيب طواف القدوم ولم يرمل في هذا الطواف ولم يسع، وإلا رمل وسعى كذا في الكافي والأفضل تأخيرهما لطواف الركن ليصيرا تبعا للفرض دون السنة كذا في البحر الرائق. (الفتاوی الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس في كيفية أداء الحج، ج: 1، ص: 219ــــ231)


فتویٰ نمبر : 10647/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور