بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
تعزیت اور میت کے گھر والوں کو کھاناکھلانے کے ایام
سوال
میت کے گھر والوں کے ساتھ تین دن کی تعزیت اور اس کے گھر کھانا لے جانے کی ابتدا میت کے انتقال کے دن سے ہوگی یا تدفین کے دن سے کیونکہ بعض دفعہ میت کا انتقال ایک دن ہوجاتاہےاور دفن دوسرےدن کیاجاتاہے؟
جواب
تعزیت کا وقت میت کے انتقال سے لے کر تین دن تک ہوتا ہے، اس دوران کسی بھی وقت میت کے اہلِ خانہ اور اعزّہ و اقارب سے تعزیت کی جاسکتی ہے، وفات سے تین دن کےبعد تعزیت کرنا پسندیدہ نہیں، الا یہ کہ کسی عذر کی وجہ سے تین دن کے اندر نہ کرسکے تو اس کے بعد بھی تعزیت کی جاسکتی ہے۔اس طرح اہل محلہ میت کے گھر کافوتگی کےدن کھانا لےجانا مستحب ہے،اور بعض کے ہاں تین دن ایام تعزیت کے بقدر مستحب ہے ،یعنی میت کے انتقال سے لے کر تین دن تک ۔
التعزية لصاحب المصيبة حسن... ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الباب الحادي والعشرون في الجنائز... مسائل في التعزية،ج:1،ص:167)
والمعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، فيحصل لهم الضرر وهم لا يشعرون. قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية.(مرقاۃالمفاتیح کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت،الفصل الثاني،ج:3 ،ص :1241رقم الحديث:1739)