بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
نفلی طواف کے بعد دو رکعت پڑھنے اور سعی کرنے کا حکم
سوال
عمرہ کی ادائیگی کے بعد نفلی طواف کئے جائیں ، تو کیا اس صورت میں طواف کے بعد مقامِ ابراہیم پردو رکعت پڑھنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا بھی لازم ہوگا ؟ یا صرف طواف ہی کرنا ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ ہر طواف کے سات چکروں کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے،چاہے وہ طواف فرض ہو یا نفل ہو، اور حرم شریف میں پڑھنا سنت ہے، اور مقام ابراہیم اور بیت اللہ کو سامنے لےکر پڑھنا افضل ہے،اگر وہاں جگہ نہ ملے تو پوری مسجد الحرام میں کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں ،البتہ نفلی طواف کے بعد سعی نہیں کی جائے گی؛ کیونکہ سعی حج و عمرہ کے واجبا ت میں سے ہے، نفلی طواف کے بعد سعی مشروع نہیں ،لہذا سعی نہیں کی جائے گی۔
( وختم الطواف باستلام الحجر استنانا ثم صلى شفعا ) في وقت مباح ( يجب ) بالجيم على الصحيح (بعد كل أسبوع عند المقام) حجارة ظهر أثر قدمي الخليل ( أو غيره من المسجد ).( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الحج، فصل في الإحرام وصفة المفرد، ص:161 )
وعليه لكل أسبوع ركعتان لباب، وأطلق الأسبوع فشمل طواف الفرض والواجب والسنة والنفل. ( رد المحتار، كتاب الحج، فصل في الإحرام وصفة المفرد، ج:2، ص:499 )
( وطاف بالبيت نفلا ماشيا ) بلا رمل وسعي وهو أفضل من الصلاة نافلة للآفاقي وقلبه للمكي....( قوله بلا رمل وسعي ) لأن الرمل وكذا الاضطباع تابعان لطواف بعده سعي من واجبات الحج والعمرة فقط، وهذا الطواف تطوع فلا سعي بعده قال في الشرنبلالية عن الكافي لأن التنفل بالسعي غير مشروع. ( رد المحتار، كتاب الحج، فصل في الإحرام وصفة المفرد، ج:2، ص:502 )