بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
ایک رکعت میں تین سجدے کرنے پر سجدہ سہو
سوال
نماز میں امام نے غلطی سے ایک رکعت میں تین سجدے کر لیے۔ بعد میں اسے یاد آیا، تو اس نے سجدہ سہو کیا اور نماز مکمل کی۔کیا تین سجدوں سے نماز فاسد ہوئی؟کیا سجدہ سہو اس غلطی کا کفارہ بن جائے گا؟
جواب
نماز کی ایک رکعت میں دو سجدے کرنا فرض ہے، اگر کسی نے غلطی سے تین سجدے کر لیے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی،البتہ اس کے ازالہ کے لیےسجدہ سہو کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اگر ایک رکعت میں تین سجدے کرنے کے بعد آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا، تو وقت گزرنے سے پہلے پہلے اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر امام نےایک رکعت میں تین سجدے کرنے کےبعد سجدہ سہو کیا ہو تو نماز درست ہے۔
وقد اقتصر المصنف على هذه الواجبات في باب صفة الصلاة وبقي واجب آخر وهو عدم تأخير الفرض والواجب وعدم تغييرهما وعليه تفرع مسائل منها لو ركع ركوعين أو سجد ثلاثا في ركعة لزمه السجود لتأخير الفرض وهو السجود في الأول والقيام في الثاني. ( البحرالرائق شرح كنز الدقائق،کتاب الصلاة،باب سجود السهو،ج:2،ص:105)
كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوباً في الوقت، وأما بعده فندب. (حاشية الطحطاوي،كتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت،ص:440)