بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
کسی وارث کا اپنے حصہ وراثت سے کچھ حصہ لے کرباقی سے دستبردارہو نا
سوال
اگر کوئی وارث اپنی مرضی سے دو گواہوں کی موجودگی میں اپنے شرعی حصے سے کم حصہ لے کر باقی سے دستبردار ہو جائے ، تو کیا کچھ عرصہ بعد وہ دوبارہ اپنے پورے حصے کا شرعی طور پر مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ جب کوئی وارث ترکہ میں سے کوئی چیز لے کر خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہوصلح کرلے اور ترکہ میں سے اپنے باقی حصہ سے دست بردار ہوجائے تو یہ شرعا درست ہے، اسے اصطلاح میں " تخارج" کہتے ہیں،چنانچہ ایسی صورت میں ایسے وارث کا اس ترکہ میں کوئی حق باقی نہیں رہتا۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی وارث اپنی مرضی سے دو گواہوں کی موجودگی میں اپنے شرعی حصے سے کم حصہ لے کر باقی سے دستبردار ہو جائے،تو تخارج کی وجہ سے ایسے شخص کا شرعا اس ترکہ میں حق باقی نہیں رہتا ،چنانچہ کچھ عرصہ بعد وہ دوبارہ اپنے پورے حصے کامطالبہ نہیں کر سکتا۔
(ومن صالح من الورثة) والغرماء على شيء معلوم منها (طرح) أي اطرح سهمه من التصحيح وجعل كأنه استوفى نصيبه (ثم قسم الباقي من التصحيح) أو الديون (على سهام من بقي منهم) فتصح منه الخ ( رد المحتار على الدر المختار،کتاب الفرائض،باب المخارج، ج :6،ص: 811)
(ومن صالح من الورثة على شيء فاجعله كأن لم يكن، واقسم ما بقي على سهام من بقي) لأن المصالح لما ترك بشيء أعطوه جعل مستوفيا نصيبه، وخرج من البين فيبقى الباقي مقسوما على سهامهم.( تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق ،كتاب الفرائض،التصحيح في الفرائض،ج:6،ص:252)