بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کشتی میں نماز پڑھنا


سوال

ہم مچھلی پکڑنے کے لیے سمندر میں نکلتے ہیں اور اس میں نماز کا وقت بھی آتا ہے تو اس صورت میں ہم کسی طریقہ سے نماز پڑھیں بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر؟ کیونکہ اکثر اوقات کشتی میں کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے۔

جواب

کشتی میں سوار مسافر پر اگر نماز کا وقت آجائے تو اس پر نماز پڑھنا فرض ہے ۔ ممکن ہوتو کشتی کسی کنارے کھڑی کرکے باہر نکل کر ساحل پر نماز پڑھے۔  اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر کشتی میں بھی نماز پڑھ سکتا ہے،کشتی میں نماز پڑھتے ہوئے افضل یہ ہےکھڑے ہوکرپڑھنا ممکن ہو تو کھڑے ہو کر نماز پڑھی جائےلیکن اگر کوئی بیٹھ کر پڑھے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق جب کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنا مشکل ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہےنماز ادا ہو جائے گی۔

 

وإذا صلى قاعدا في السفينة ‌وهي ‌تجري ‌مع ‌القدرة على القيام تجوز مع الكراهة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وعندهما لا تجوز،(الفتاوى الهندية،کتاب الصلوۃ،باب الخامس عشر في صلوة المسافر ،ج:1،ص:143)

 ( ومن ‌صلى ‌في ‌السفينة قاعدا من غير علة أجزأه عند أبي حنيفة رحمه الله والقيام أفضل. وقالا: لا يجزئه إلا من عذر) ؛ لأن القيام مقدور عليه فلا يترك إلا لعلة. وله أن الغالب فيها دوران الرأس وهو كالمتحقق، إلا أن القيام أفضل؛ لأنه أبعد عن شبهة الخلاف، والخروج أفضل إن أمكنه؛ لأنه أسكن لقلبه،(فتح القدير،كتاب الصلوة،باب صلوة المريض،ج:2ص8)


فتویٰ نمبر : 10638/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور