بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
غیر مدخول بہاکو تین طلاقیں دینا
سوال
ایک لڑکی کا نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ہوئی لیکن لڑکی اس نکاح پر راضی نہیں تھی، لڑکی نے لڑکےسے کہا کہ اب مجھے طلاق دو تو اس نے وائس میسج کیا اور کہا کہ "میں تمہیں ایک دفعہ دے رہا ہوں" لڑکی نے کہا کہ دوبارہ سینڈ کرو تو لڑکے نے دوبارہ وہی الفاظ بولے۔ پھر لڑکی نے کہا کہ کیا دے رہے ہو تو اس نے بولا کہ جو تم مانگ رہی ہو پھر لڑکی نے کہا کہ نہیں پورا جملہ بولو تو پھر لڑکے نے تیسری دفعہ یہ بولا کہ "میں تمہیں تمہاری مرضی سے ایک دفعہ طلاق دیتا ہوں" لڑکی نے اس سے پوچھا کہ تم نے طلاق لفظ ہی بولا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ ہاں اب لڑکا کہتا ہے کہ نہیں میں نے طلاق نہیں دی اور میں نے طلاق لفظ استعمال نہیں کیا علاق بولا تھا۔ کیا یہ طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر غیر مدخول بہا منکوحہ کو تین طلاقیں الگ الگ تین لفظوں سے دی جائیں توشرعاً ایک طلاقِ بائن سے وہ جدا ہوجاتی ہے اور بقیہ دو طلاقیں لغو ہو جاتی ہیں ۔
لہذا صورت ِمسئولہ کےمطابق جس شخص نے اپنی منکوحہ بیوی سےرخصتی ودخول سے قبل یہ الفاظ کہے ہوں کہ "میں تمہیں ایک دفعہ دے رہا ہوں" "میں تمہیں ایک دفعہ دے رہا ہوں" اور "میں تمہیں تمہاری مرضی سے ایک دفعہ طلاق دیتا ہوں" تو شرعا ًاس کی بیوی ایک طلاق سے بائنہ ہوچکی ہے،نیز "طلاق" کے بجائے لفظ"علاق" کہنے سے بھی طلاق ہو جاتی ہے۔
وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها " لأن الوقاع مصدر محذوف لأن معناه طلاقا بائنا على ما بيناه فلم يكن قوله أنت طالق إيقاعا على حدة فيقعن جملة " فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة" وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق لأن كل واحدة إيقاع على حدة إذا لم يذكر في آخر كلامه ما يغير صدره حتى يتوقف عليه فتقع الأولى في الحال فتصادفها الثانية وهي مبانة.(الهداية،کتاب الطلاق،فصل في الطلاق قبل الدخول،ج:1،ص233)
(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح،ويدخل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك وتلاك أو"ط ل ق" أو"طلاق باش"بلا فرق بين عالم وجاهل، وإن قال تعمدته تخويفا لم يصدق قضاء إلا إذا أشهد عليه قبله وبه يفتى.(الدر المختار شرح تنویر الأبصار،كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ص:207)