بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
سجدہ کے اشارے کے وقت ہاتھ زمین پر رکھنا
سوال
اگر کوئی معذور شخص رکوع اور سجدہ پر قادر نہ ہو اوربیٹھ کر نماز پڑھتا ہو،تو کیا سجدہ کے اشارے کے وقت ہاتھوں کو زمین پر رکھے گا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ جب کوئی شخص معذور ہو اور بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو، اور سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو، تو وہ سر کےاشارے سے رکوع اورسجدہ ادا کرے گا، سجدہ کے اشارےکے وقت سر کو رکوع کے اشارے کےمقابلے میں کچھ زیادہ جھکائےگا۔ چونکہ اشارہ سر کا فعل ہےاس لیے بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنے کی صورت میں ہاتھوں کو زمین پر رکھنا ضروری نہیں ۔
قلت أرأيت المريض الذي لا يستطيع أن يقوم ولا يقدر على السجود كيف يصنع قال يومى على فراشه إيماء ويجعل السجود أخفض من الركوع (الأصل للإمام محمد،كتاب الصلاة،باب صلاة المريض في الفريضة،ج:1،ص:217)
(قوله وموميا إن تعذر)أي يصلي موميا وهو قاعد إن تعذر الركوع والسجود لما قدمناه ولأن الطاعة بحسب الطاقة وفي المجتبى وقد كان كيفية الإيماء بالركوع والسجود مشتبها على أنه يكفيه بعض الانحناء أم أقصى ما يمكنه إلى أن ظفرت بحمد الله على الرواية وهو ما ذكره شمس الأئمة الحلواني أن المومي إذا خفض رأسه للركوع شيئا ثم للسجود جاز(البحرالرائق،كتاب الصلاة،باب صلاة المريض،ج:2،ص:122)