بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
رضاعی بھائی سے نکاح کرنا
سوال
حفصہ اور مروا نے ایک ساتھ سلمٰی کا دودھ پیا، اس وقت حفصہ کی عمر ایک سال تھی، سلمٰی کاایک بیٹا ہےجس کا نام ثناء اللہ ہے ،اب کیا حفصہ کا نکاح ثناء اللہ کے ساتھ ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ جو بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے دودھ پلانے والی کے اصول و فروع اور بہن بھائی اس پر حرام ہوجاتے ہیں۔
صورت مسئولہ میں اگر حفصہ نے سلمٰی کا دودھ پیا ہو تو سلمٰی کے بیٹے اور بیٹیاں حفصہ کے رضاعی بہن بھائی ہیں اور رضاعی بھائی کے ساتھ نکاح حرام ہے،لہذا ثناءاللہ کا نکاح حفصہ کے ساتھ از روئے شرع جائز نہیں ۔
قال اللہ تعالی:﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ.........إلخ﴾ (سورة النساء:23)
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع و أصولهما و فروعهما من النسب و الرضاع جميعا.(الفتاوى الهندية،كتاب الرضاع، ج:1،ص:343)