بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
"میں بیوی کو بہن رکھوں گا اور میری بیوی مجھ پر بہن ہوگی" کہنے کا حکم
سوال
میں نے ایک بڑھئی کو دروازے بنانے کا کہا تھا اور اس کو گھر تک لانے کے لیے ایک شخص کے حوالے کیا تھا وہ بار بار بڑھئی سے معلومات کرتا تھا لیکن بڑھئی کبھی ایک دن اور کبھی دوسرا دن کہتا تھا بالآخراس نے غصے میں آکر یہ الفاظ بولے:"کہ نن او یا صبا تا دا کار او نہ کو نو زہ دا دروازی نہ وڑم او کو می یوڑی نو خزہ بہ خور ساتم او خزہ بہ پہ ما خور یی"یعنی اگر آج یا کل آپ نے یہ کام نہ کیا تو پھر میں یہ دروازے نہیں لے جاوں گا اور اگر میں لے گیا تو میں بیوی کو بہن رکھوں گا اور میری بیوی مجھ پر بہن ہوگی ۔ان الفاظ کا کیا حکم ہے ؟
جواب
ظہار کے لیے ضروری ہے کہ کوئی محرمات ابدیہ کے ساتھ اپنی بیوی کی تشبیہ دے ،اگر کوئی حرف تشبیہ کے علاوہ بیوی کو محرمات میں سے قراد دے تو ظہار نہیں ہوگا بلکہ عرف کو دیکھا جائے گا اگر عرف میں اس سے طلاق مراد لی جاتی ہو تو اس طرح کے الفاظ سے طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور اگر عرف میں طلاق مراد نہ لی جاتی ہو تو پھر کہنے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا اور اگر کوئی نیت بھی نہ ہو تو اس صورت میں کلام لغو شمار ہوگا۔اورجس طرح صریح معلق طلاق شرط پائے جانے کے بعد فورًا واقع ہوجاتی ہے اسی طرح طلاق بائن کو اگر معلق کیا گیا ہو تو وہ بھی شرط پائے جانے کے بعد فوراواقع ہوجاتی ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی اس شخص نے یہ الفاظ کہے ہوں کہ:" کہ نن ا او یا صبا تا دا کار او نہ کو نو زہ دا دروازی نہ وڑم او کو می یوڑی نو خزہ بہ خور ساتم او خزہ بہ پہ ما خور یی"تو یہ ظہار کے الفاظ نہیں، البتہ اگر عرف میں اس سے طلاق مراد لی جاتی ہو، تواگر کل کے بعد یہ شخص ان دروازوں کو لے جائے گاتو شرط پائے جانے کی وجہ سے ایک طلاق بائن واقع ہوجائےگی اور تجدید نکاح کرنی ہوگی۔ اورا گر عرف میں اس سے طلاق مراد نہ لی جاتی ہو اور کہنے والے کی کوئی نیت بھی نہ ہو تو یہ کلام لغو شمار ہوگا۔
قال العلماء: لا بد في الظهار من التشبيه وإذا قال: أنت أمي لا يكون ظهاراً بل لغواً، أقول: لا بد من أن يكون طلاقاً بائناً عند النية وقد روي عن أبي يوسف كما في العمدة.(العرف الشذي شرح سنن الترمذي،كتاب الطلاق واللعان،باب ماجاء في كفارة الظهار،ج:2،ص:429)
(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية(وإلا) ينو شيئا،أو حذف الكاف(لغا)وتعين الأدنى أي البر،يعني الكرامة.(قوله: لأنه كناية)أي من كنايات الظهار والطلاق.قال في البحر:وإذا نوى به الطلاق كان بائنا كلفظ الحرام،وإن نوى الإيلاء فهو إيلاء عند أبي يوسف،وظهار عند محمد. ."(رد المحتارعلى الدر المختار،باب الظهار،ج:3،ص:470)