بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تجارتی مال کے منافع پرزکوۃ


سوال

ہمارے علاقے مدین(سوات) میں کچھ علماء کے درمیان اختلاف ہوا ہےکہ تجارتی مال کی زکوۃ  اصل اور نفع دونوں سے نکالی جائے یا صرف اصل رأس المال سے نکالی جائے؟ بعض علماء کا کہنا ہےکہ اصل اور نفع دونوں سے زکوۃ نکالی جائے گی، جب کے ایک عالم کا کہنا ہے کہ صرف رأس المال کی زکوۃ ہے منافع کی نہیں ،لہذا اس سوال کا جواب بیان فرمائیں؟

جواب

واضح رہےکہ سامان تجارت میں ادائیگی زکوٰۃکے حوالے سے قیمت کے تعین میں فقہاء نے قیمت فروخت کا اعتبار کیا ہے،یعنی سال کے اختتام پرتاجرسامان کا منصفانہ اورمحتاط طریقے سے اندازہ لگائے، جس قیمت پروہ سامان معمول کے مطابق فروخت کیا جا سکتا ہے، اسی کے مطابق زکوٰۃ دی جائے گی۔

صورت مسئولہ میں تجارتی سامان کی زکوٰۃ ادا کرتے وقت قیمت فروخت کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جائےگی ۔

 

عن ‌الحسن ‌في ‌رجل ‌اشترى (‌متاعًا فحلت) فيه الزكاة فقال: (يزكيه) (بقيمته) يوم حلت. (مصنف ابن أبي شيبة، كتاب الزكاة، باب ما قا لوا فى المتاع يكون عند الرجل تحول عليه الحول، مؤسسه علوم القرآن،رقم:10559 ج:6، ص:526)

عن ‌ابن ‌جريج ‌قال: ‌سمعت ‌أنا ‌أنها قيمة العروض يوم تخرج زكاته. (مصنف عبدالرزاق، كتاب الزكاة، باب الزكاة من العروض، رقم:7105، ج:4، ص:97)

إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن أدى من عينها أدى خمسة أقفزة، وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب؛ لأن الواجب أحدهما ولهذا يجبر المصدق على قبوله وعندهما يوم الأداء. (الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، ج:1، ص:180)

‌يقوم ‌التاجر ‌العروض ‌أو ‌البضائع ‌التجارية ‌في ‌آخر ‌كل ‌عام ‌بحسب ‌سعرها ‌في ‌وقت ‌إخراج ‌الزكاة، ‌لا ‌بحسب ‌سعر ‌شرائها، ‌ويخرج ‌الزكاة ‌المطلوبة. (الفقه الإسلامي و أدلته، الفصل الأول: الزكاة، تقويم العروض ومقدار الواجب في هذه الزكاة وطريقة التقويم، ج:3، ص:1871)


فتویٰ نمبر : 10606/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور