بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

خانہ کعبہ یا مسجد نبوی كو وی آر گیمز یا ایپلیکیشنز میں دکھانا


سوال

کچھ وی آر گیمز یا ایپلیکیشنز میں خانہ کعبہ یا مسجد نبوی کے تھری ڈی ماڈلز ہوتے ہیں اور لوگ "گیم" کے اندر نماز بھی ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا یہ طرزِ استعمال توہین کے زمرے میں آئے گایا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ مقدّس مقامات خصوصاً خانہ کعبہ و مسجدِ نبوی کا  احترام کرنا ضروری اورلازمی ہے، ان کا تمسخرکرنا یا غیرمعقول جگہوں پر اس کا دکھاناشرعاً ناجائزاور حرام ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں خانہ کعبہ یا مسجد نبوی جیسے مقدس مقامات کو فضول گیموں میں  دکھانا بے ادبی کے زمرے میں آئیگا ،جو کہ شرعا نا جائز ہے،کیونکہ ان جیسے گیمز میں اوقات کے ضائع ہونےاور جسمانی نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔

 

قال الله تعالى:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآئِرَ اللّهِ وَلاَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْهَدْيَ وَلاَ الْقَلآئِدَ وَلاَ آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَام﴾ سورة المائدة:5/2

عن عياش بن أبي ربيعة المخزومي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا ‌تزال ‌هذه ‌الأمة ‌بخير، ما عظموا هذه الحرمة، حق تعظيمها، فإذا ضيعوا ذلك، هلكوا".( سنن ابن ماجه، كتاب المناسك، باب فضل مكة، ج:2، ص:1038 )


فتویٰ نمبر : 6361/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور