بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تدفین کے بعد قبر پر رُکنے کے متعلق ایک حدیث کی تحقیق


سوال

کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ مردے کو دفنانے کے بعد قبر پر اتنی دیر رکنا چاہیے، جتنی دیر اونٹ کو ذبح کر کے تقسیم کرنے میں لگتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ میت کی تدفین کے بعد قبر پر کچھ دیر تک ٹھہرنا مسنون و مستحب ہے ،حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میت کی تدفین کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے اور فرماتے: ''اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو اور اللہ تعالی سے اس کے لیے ثابت قدمی کا سوال کروکیوں کہ اب اس سے سوال کیا جائے گا''۔اس طرح فقہاے کرام نے فرمایاکہ مستحب یہ ہے کہ تدفین سے فارغ ہوکر قبر کے پاس کم از کم اتنی دیر ٹھہرا جائے کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے اور اس دوران میت کے لیے منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں ثابت قدمی اور مغفرت کی دعا کرنی چاہیے اور قرآن پاک پڑھنا چاہیے ۔ یہ کسی مرفوع حدیث سے ثابت نہیں بلکہ  صحابی کا قول ہےحضرت ابن شماستہ المہری کا بیان ہے ہم حضرت عمرو بن العاص رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ سکرات الموت کی حالت میں تھے، اس میں انہوں نے  اپنے بیٹے سے فرمایا: جب میرا انتقال ہوجائے، تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی نہ جائے اور نہ ہی  کوئی آگ لےکر  جائے، اور جب تم لوگ مجھے دفن کرو، تو مجھ پر تھوڑی تھوڑی مٹی ڈالنا، اس کے بعد میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر ٹھہرنا کہ جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔

 

حدثنا إبراهيم بن موسى الرازي،حدثنا هشام، عن عبد الله بن بحير، عن هانئ، مولى عثمان، عن عثمان بن عفان، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم، إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه، فقال: «استغفروا لأخيكم،وسلوا له بالتثبيت، فإنه الآن يسأل».(سنن أبي داود،كتاب الجنائز،باب الاستغفار عند القبر المیت في وقت الانصراف،رقم الحدیث،ج:3،ص:215)

عن ابن شماسة المهري، قال:حضرنا عمرو بن العاص وهو في سياقة الموت........ فإذا أنا مت، فلا تصبحني نائحة ولا نار. فإذا دفنتموني فشنوا علي التراب شنا، ثم أقيموا حول قبري قدر ما تنحر جزور. ويقسم لحمها. حتى أستأنس بكم. وأنظر ماذا أراجع به رسل ربي.(الصحيح لمسلم،كتاب الإيمان،باب كون الإسلام يهدم ما كان قبله وكذا الهجرة والحج،رقم الحدیث:121،ج:1،ص:112)  

ويستحب حثيه من قبل رأسه ثلاثًا،وجلوس ساعةًبعددفنه لدعاء و قراءة بقدر ما ينحرالجزور و يفرق لحمه.(قوله: وجلوس إلخ) لما في سنن أبي داود «كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من دفن الميت وقف على قبره و قال:استغفروا لأخيكم و اسألوا الله له التثبيت فإنه الآن يسأل»وكان ابن عمر يستحب أن يقرأعلى القبر بعد الدفن أول سورة البقرة وخاتمتها.وروي أن عمرو بن العاص قال: و هو في سياق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار، فإذا دفنتموني فشنوا علي التراب شنا، ثم أقيموا حول قبري قدر ما ينحر جزور، ويقسم لحمها حتى أستأنس بكم وأنظر ماذا أراجع رسل ربي.جوهرة.(الدر المختار شرح تنویر الأبصار،كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن الميت،ج:2،ص:237،236)


فتویٰ نمبر : 6347/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور